-(precisely 0.6 percent) ہے
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲
جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ۵۷۰ء میں مکہ میں ہوئی ۔ ۶۱۰ء میں آپ کو نبوت ملی۔ اس کے بعد آپ ۲۳ سال تک پیغمبر کی حیثیت سے دنیا میں رہے۔ اس ۲۳ سالہ مدت کے ابتدائی ۱۳ سال آپ نے مکہ میں گزارے اور بعد کے ۱۰ سال مدینہ میں ۔ قرآن کی کچھ سورتیں مکی دور میں نازل ہوئیں اور کچھ سورتیں مدنی دور میں ۔ اس پیغمبرانہ مدت میں آپ نے کیا۔ آپ نے لوگوں کو اقرأ باسم ربک الذی خلق (العلق) اور اس قسم کی دوسری غیر حربی آیتیں سنائیں۔ آپ لوگوں سے یہ کہتے رہے کہ ایھا الناس قولوا لا اله الا الله تفلحوا۔ آپ نے لوگوں کو دعا اور عبادت کے طریقے بتائے۔ لوگوں کو اخلاق اور انسانیت کی تعلیم دی۔ لوگوں کو بتایا کہ دوسرے لوگ جب تم کو ستائیں تب بھی تم صبر و اعراض کے ساتھ زندگی گزارو۔ آپ نے قرآن کو ایک اصلاحی کتاب اور ایک دعوتی کتاب کے طور پر لوگوں کے درمیان عام کیا۔ آپ نے یہ نمونہ قائم کیا کہ دار الندوہ (مکہ کی پارلیمنٹ ) میں اپنی سیٹ حاصل کرنے کے بجائے جنت میں اپنی سیٹ حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ آپ نے لوگوں کو اپنے عمل سے یہ سبق دیا کہ کعبہ جیسی مقدس عمارت میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے ہوں تب بھی ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کئے بغیر تم اپنا مشن پر امن طور پر شروع کر سکتے ہو۔ آپ نے یہ نمونہ قائم کیا کہ کس طرح یہ ممکن ہے کہ آدمی اشتعال انگیز حالات کے درمیان اپنے آپ کو لوگوں کے خلاف نفرت سے بچائے اور پر امن رہ کر لوگوں کی خیر خواہی کا کام انجام دے، وغیرہ۔
پیغمبر اسلام نے اپنی زندگی میں اس قسم کے جو غیر متشددانہ کام کئے وہ سب بلاشبہ عظیم اسلامی کام تھے۔ بلکہ یہی نبوت کا اصل مشن ہے۔ اور جہاں تک جنگ کا تعلق ہے وہ صرف ایک استثنائی ضرورت ہے، اسی لئے فقہاء نے جنگ کو حسن لغیر ہ بتایا ہے۔
Not for the sake of Islam, but due to some practical reasons.
‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues