Al-Risala · April 2002 · page

دوگونہ غلطی

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲

کا اور دوسرا کشمیر کا۔ ریاست حیدرآباد میں ہندو اکثریت تھی مگر حکمران مسلمان تھا۔ اس کے برعکس ریاست کشمیر میں مسلم اکثریت تھی مگر حکمران ہندو تھا۔ اب یہ سوال تھا کہ ان دونوں ریاستوں کا سیاسی مستقبل کیا ہو۔ حیدر آباد کے نواب نے اپنا رسمی الحاق پاکستان سے کر لیا اس کے برعکس کشمیر کے راجہ نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کے کاغذات پر دستخط کر دئے۔

اس نزاع کو ختم کرنے کے لیے نئی دہلی کی لیڈر شپ نے ایک حقیقت پسندانہ پیشکش کی۔ اُس نے پاکستانی لیڈروں سے کہا کہ تم حیدر آباد سے اپنا دعویٰ واپس لے لو اور ہم کشمیر سے اپنا دعویٰ واپس لے لیں۔ اس طرح یہ نزاع ختم ہو جائے گی اور دونوں ملک معتدل انداز میں ترقی کے راستہ پر اپنا سفر شروع کر دیں گے۔

ہندوستانی لیڈروں کی اس پیش کش کی تائید میں قرآن میں یہ واضح ہدایت موجود تھی : وإن جنحوا للسلم فاجنح لھا (الأنفال ٦١) یعنی اگر فریق ثانی صلح کی پیش کش کرے تو تم فوراً اس پیشکش کو قبول کر لو۔ مگر پاکستان کے لیڈر جو سلطانی ماڈل سے مسحور کن حد تک متاثر ہونے کی وجہ سے حاکمانہ نفسیات کا شکار تھے، وہ اس قیمتی پیشکش کو قبول نہ کر سکے۔ اس کے بعد جو بے پناہ تباہی آئی وہ ہر ایک کے لیے ایک معلوم واقعہ ہے۔

کشمیر کے بارے میں پاکستانی لیڈروں کی یہ نا قابل فہم نادانی تاریخی ریکارڈ سے ثابت ہے۔ اس معاملہ کو حسب ذیل کتابوں میں تفصیل کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے:

1. Looking Back, by Mehrchand Mahajan. 2. Witness to an Era, by Frank Morris. 3. Emergence of Pakistan, by Chaudhary Mohd. Ali. 4. The Nation that Lost Its Soul, by Sardar Shaukat Hayat Khan پاکستانی لیڈروں کی سلطانی نفسیات اس میں رکاوٹ بن گئی کہ وہ کشمیر کے مسئلہ کو میز کی گفت وشنید کے ذریعہ حل کر سکیں ۔ اس کے بعد انہوں نے شدید تر غلطی یہ کی کہ وہ فوجی طاقت کو استعمال کر کے اس مسئلہ کے حل کا خواب دیکھنے لگے۔ پہلے انہوں نے براہ راست مسلح اقدام کے ذریعہ ہندوستان سے فوجی ٹکراؤ کیا۔ مگر اس اقدام میں انہیں مکمل ناکامی ہوئی۔ اُن کی سلطانی نفسیات اب

‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues

Printed page