ذہاب العلماء
الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۲
ذہاب العلماء
مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ایک ممتاز مسلم رہنما اور ایک مستند عالم دین تھے۔ وہ ۹ اکتوبر ۱۹۳۹ء کو در بھنگہ میں پیدا ہوئے۔ وہ مختلف اعلیٰ حیثیتوں کے ساتھ اسلام اور ملت اسلام کی قابل قدر خدمات انجام دیتے رہے۔ اپنی آخری عمر میں وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے چیئر مین تھے۔ ۴ ۴؍اپریل ۲۰۰۲ء کو دہلی میں اُن کا انتقال ہو گیا۔ اِنا للہ و اِنا الیہ راجعون۔ مولانا مجاہد الاسلام قاسمی کی موت دورِ آخر کے اس ظاہرہ کی ایک مثال ہے جس کو حدیث میں ذہاب العلماء کہا گیا ہے۔ یعنی علماء کا چلے جانا یا علماء کا اُٹھ جانا۔ عام طور پر اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ علماء ایک کے بعد ایک مر جائیں گے اور پھر کوئی عالم دنیا میں باقی نہ رہے گا۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہاں علماء سے مراد اجتہادی صلاحیت کے علماء ہیں۔
اصل یہ ہے کہ اس حدیث میں علماء سے مراد بلند پایہ علماء ہیں۔ تاہم اس کا مطلب سادہ طور پر بلند پایہ علماء کی رحلت نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ملت کے بلند پایہ افراد کا علماء کی صف میں شامل نہ ہونا ہے۔ یعنی علماء بننے کے قابل لوگ علماء بننا چھوڑ دیں گے۔ اس سے مراد اشخاص کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ دور کا خاتمہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی بہت سی حدیثیں صنعتی دور میں پیدا ہونے والے حالات کی پیشین گوئی ہیں۔ صنعتی دور میں ترقی کے مواقع اور مادی چمک دمک بہت بڑھ جائے گی، اس بنا پر دنیا کی طرف رغبت (temptation) میں اتنا زیادہ اضافہ ہو جائے گا کہ اعلیٰ صلاحیت کے لوگ دنیوی شعبوں کی طرف بھاگنے لگیں گے۔ اس صورت حال کو ایک شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: فریب جلوہ اور کتنا مکمل اے معاذ اللہ بڑی مشکل سے دل کو بزم عالم سے اُٹھایا پایا خياركم في الجاهلية خياركم في الاسلام کے مطابق، اعلیٰ صلاحیت کا آدمی ہی اعلیٰ عالم بنتا ہے۔ جب اعلیٰ اذہان دین کی طرف راغب نہ ہوں گے تو فطری طور پر یہ ہوگا کہ دین کی صفیں
‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues