Al-Risala · October 2002 · page 52

قرآن ایک کتابِ امن

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۵۲

فرق کے ساتھ کہ یہ امن کلچر بقیہ کائنات میں فطرت کے زور پر قائم ہے۔ انسان ایک آزاد مخلوق ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اس امن کلچر کو خود اپنے ارادہ اور اپنے فیصلے کے تحت اپنی زندگی میں اختیار کرے۔

قرآن ایک کتابِ امن

قرآن بلا شبہ امن کی ایک کتاب ہے، وہ جنگ اور تشدد کی کتاب نہیں۔ قرآن کے تمام بیانات براہ راست یا بالواسطہ طور پر امن سے متعلق ہیں۔ قرآن کا پہلا جملہ 'بسم اللہ الرحمن الرحیم' ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ نہایت مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس خدا نے یہ کتاب بھیجی ہے اُس کی سب سے بڑی صفت رحمت ہے۔ اور یہ کتاب خدا کی اِسی صفتِ رحمت کا اظہار ہے۔

قرآن کی تمام آیتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر امن کی تعلیمات پر مشتمل ہیں۔ قرآن کی کل آیتوں کی تعداد ۶۶۶۶ہے۔ ان میں بمشکل چالیس آیتیں ایسی ہیں جو قتال (جنگ) کے حکم کو بیان کرتی ہیں۔ یعنی ایک فیصد سے بھی کم آیتیں ۔ زیادہ متعین طور پر کل آیتوں کے مقابلہ میں صرف اعشاریہ چھ فیصد (0.6 percent)۔

جو لوگ قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہیں وہ قرآن کے حقیقی مومن صرف اُس وقت قرار پائیں گے جب کہ وہ قرآن کی اس تعلیم کی پیروی کرتے ہوئے مکمل طور پر امن پسند بن جائیں۔ وہ کسی حال میں بھی تشدد کا رویہ اختیار نہ کریں۔

یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اسلام اور مسلمان کے درمیان فرق کریں۔ وہ مسلمانوں کے عمل کو اسلام کی تعلیم کا نام نہ دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے عمل کو اسلام کے معیار سے جانچا جائے گا، نہ یہ کہ اسلام کو مسلمانوں کے عمل سے سمجھا جانے لگے۔ اسلام ایک نظریہ ہے، مسلمان اُسی وقت مسلمان ہیں جب کہ وہ اسلامی تعلیمات کی پیروی کریں۔ جو لوگ اسلامی تعلیمات کو چھوڑ دیں اُن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، خواہ بطور خود وہ اپنے آپ کو اسلام کاچیمپین بتاتے ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues

Printed page