Al-Risala · October 2002 · page 55

صلح بہتر ہے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۵۵

انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ کسی فرد یا گروہ نے جب بھی کوئی کامیابی حاصل کی ہے تو اُس نے یہ کامیابی مصالحانہ طریقہ اختیار کرنے کے بعد حاصل کی ہے۔ ٹکراؤ اور لڑائی کا طریقہ اختیار کرکے اس دنیا میں حقیقی کامیابی کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔ صلح کی یہ اہمیت اس لیے ہے کہ صلح میں آدمی کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ حاصل شدہ مواقع کو بھرپور طور پر اپنے حق میں استعمال کرے جب کہ ٹکراؤ کے طریقہ میں یہ ہوتا ہے کہ ساری طاقت دوسروں کی تخریب میں ضائع ہو جاتی ہے۔ تعمیر کا کوئی کام سرے سے انجام نہیں پاتا۔ حالانکہ ترقی کا راز اپنی تعمیر واستحکام میں ہے، نہ کہ مفروضہ دشمن کو برباد کرنے میں۔ فساد فی الارض نہیں قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں ایک کردار کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: واذا قيل لھم لا تفسدوا في الأرض قالوا انما نحن مصلحون (البقرہ (۱۱)۔ یعنی جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ تم زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے لوگ ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں جس کردار کا ذکر ہے اُس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بظا ہر ایک اصلاحی مقصد کے لیے سرگرم ہوں، مگر اُن کا طریقہ درست نہ ہو۔ اُن کا طریقہ ایسا ہو جو عملاً فساد اور بگاڑ پیدا کرنے والا ہے۔ یہاں فساد سے مراد یہ ہے کہ اُن کے طریقہ کے نتیجہ میں لوگوں میں باہمی ٹکراؤ پیدا ہو۔ لوگ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں۔ لوگوں کے اندر اخلاقی احساس کمزور ہو جائے۔ لوگوں کے اندر منفی نفسیات پیدا ہوں۔ اس قسم کی تمام چیزیں فساد فی الأرض کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کیوں کہ اس سے سماجی امن ختم ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ لڑائی اور ٹکراؤ کی نوبت آ جاتی ہے۔

قرآن کی اس تعلیم سے معلوم ہوا کہ کسی عمل کے درست ہونے کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ بظاہر وہ ایک اچھے مقصد کے لیے شروع کیا گیا ہو۔ اسی کے ساتھ لازمی طور پر یہ دیکھنا ہوگا کہ اصلاح کے نام پر کی جانے والی سرگرمیاں کس قسم کا نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔ اگر وہ لوگوں کے درمیان نفرت اور تناؤ اور لڑائی جیسی چیزیں پیدا کریں تو بظاہر اصلاح کا نام لینے کے باوجود اُن کی سرگرمیاں مفسدانہ سرگرمیاں ہی کہی جائیں گی۔ ایسے لوگ انسانیت کے مجرم قرار پائیں گے، نہ کہ انسانیت کے مصلح اور خادم۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues

Printed page