نزاع نہیں
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۶۲
طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ فطرت کے نقشہ سے ہٹ جاتا ہے اور جو آدمی فطرت کے نقشہ سے ہٹ جائے اُس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔
نزاع نہیں
قرآن کی سورہ نمبر ۲۲ میں خدا نے ارشاد فرمايا ہے: فلا ينازعنك في الامر و ادع الى ربك (الحج (۶۷) یعنی وہ تم سے امر میں ہرگز نزاع نہ کریں اور لوگوں کو تم اپنے رب کی طرف بُلاؤ۔ اس آیت میں نزاع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تم اُنہیں نزاع کا موقع نہ دو۔ یعنی جب بھی تمہارے اور فریق ثانی کے درمیان کوئی اختلافی بات پیش آئے تو اُس کو پر امن بات چیت کے دائرہ میں محدود رکھو۔ ایسا ہرگز نہ ہونے دو کہ اختلاف اپنی ابتدائی حد سے گزر کر عملی نزاع بن جائے ۔ اور متشددانہ مقابلہ آرائی کی نوبت آجائے۔
موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی بات پر دو فریقوں کے درمیان تناؤ پیدا ہو جاتا ہے ۔ یہ تناؤ بذات خود یک فطری چیز ہے۔ وہ ہر حال میں اور ہر مقام پر پیدا ہوگا۔ اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ اس تناؤ یا اس اختلاف کو حد سے آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ اختلاف کا امن کے دائرہ میں رہنا اُس کا حد کے اندر رہنا ہے۔ اختلاف کا عملی ٹکراؤ یا تشدد کے دائرہ میں پہنچ جانا اُس کا حد سے تجاوز کرنا ہے۔ حد کے اندر کوئی بھی اختلاف بُرا نہیں ، مگر حد کے باہر چلے جانے کے بعد ہر اختلاف بُرا بن جاتا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں با مقصد انسان کا طریق عمل بتایا گیا ہے۔ ایک انسان جو ایک سنجیدہ مقصد کے لیے اُٹھا ہو، اُس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اُس کے اور دوسروں کے درمیان صرف وہی چیز زیر بحث آئے جو کہ اس کا اصل مقصد ہے۔ دونوں کے درمیان کسی اور چیز کا زیر بحث آنا با مقصد انسان کے لیے زہر کی حیثیت رکھتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ دونوں کے درمیان عدم نزاع کی یہ فضا کیسے قائم ہو ۔ جواب یہ ہے کہ یہ فضا صرف اْس انسان کے ایک طرفہ صبر کے ذریعہ قائم ہو سکتی ہے جو ایک مثبت مقصد اپنے ساتھ لے کر
‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues