عداوت کے مسئلہ کا حل
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۲۴
نے نرمی کے ساتھ کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ زمین کا خذر پر ہوتی ہے۔ زمین کا فیصلہ کا غذ کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ آپ ایسا کیجئے کہ میرے پاس جو کا غذات ہیں اُن کو لے لیجئے اور ٹھیکہ دار صاحب کے پاس جو کا غذات ہیں اُن کو بھی لے لیجئے۔ اور پھر نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے گھر چلے جائیے۔ اس معاملہ میں میں آپ ہی کو جج بناتا ہوں ۔ آپ کا غذات کو دیکھنے کے بعد جو بھی فیصلہ کر دیں وہ مجھے بلا شرط منظور ہوگا۔ یہ سُن کر مسٹر سونڈ بالکل نارمل ہو گئے۔ وہ غصہ کی حالت میں اندر گئے اور ہنستے ہوئے باہر نکلے۔ انہوں نے سڑک پر کھڑی ہوئی بھیڑ سے کہا کہ تم لوگ اپنے گھروں کو واپس جاؤ۔ میاں جی نے خود ہم کو جج بنا دیا ہے۔ اب ہم دونوں کے کا غذات دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔ مسٹر سونڈ نے اس کے بعد گھر جا کر دونوں کے کا غذات کو دیکھا اور معاملہ کو اچھی طرح سمجھا۔ چند دن کے بعد انہوں نے صد فی صد مسلمان کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔
مذکورہ مسلمان اگر اپنی بندوق کو لے کر بھیڑ کے اوپر گولی چلاتے تو وہ بھیڑ کے نفس امارہ (انانیت) کو جگا دیتے۔ اور پھر یقینی طور پر سارا معاملہ مسلمان کے خلاف ہو جاتا۔ مگر جب انہوں نے گن کے بجائے معقولیت کو استعمال کیا تو اُس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کا نفس لوامہ (ضمیر) جاگ اُٹھا۔ اور جب ضمیر جاگ اُٹھے تو اُس کا فیصلہ ہمیشہ انصاف کے حق میں ہوتا ہے، ضمیر کبھی ظلم اور بے انصافی کا فیصلہ نہیں کرتا۔ فتح بھی شکست ہے شاہ پائرس (King Pyrrhus) تیسری صدی قبل مسیح کا ایک یونانی بادشاہ تھا۔ اُس کی لڑائی رومیوں سے ہوئی ۔ اس جنگ میں آخر کار شاہ پائرس کو رومیوں کے اوپر فتح حاصل ہوئی۔ مگر لڑائی کے دوران شاہ پائرس کی فوج اور اُس کے ملک کی اقتصادیات بالکل تباہ ہو چکی تھی۔ شاہ پائرس کے لیے یہ بظاہر فتح تھی مگر وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے شکست کے ہم معنی تھی۔ اس تاریخی واقعہ کی بنا پر ایک اصطلاح مشہور ہوئی ہے جس کو پرک وکٹری (Pyrrhic Victory) کہا جاتا ہے، یعنی بظاہر فتح مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے مکمل شکست۔
جنگوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اکثر فتح پرک فتح ہی ہوتی ہے۔ ہر فاتح
‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues