عداوت کے مسئلہ کا حل
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴۲۶
جائے تو دھیرے دھیرے وہ آدمی کی نفسیات کا مستقل جز ء بن جائے گی۔ اس کے بعد آدمی کی سوچ منفی سوچ بن جائے گی۔ وہ دوسروں کو اپنا دشمن سمجھ لے گا۔ اگر موقع ہو تو وہ دوسروں کے خلاف تشدد پر اتر آئے گا۔ یہاں تک کہ وہ زیر شکایت لوگوں سے عملی ٹکراؤ شروع کر دے گیا ، خواہ اس کا نتیجہ برعکس صورت میں کیوں نہ ظاہر ہو۔
شکایت کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کرنے کا فارمولا کیا ہے، وہ فارمولا قرآن کے الفاظ میں یہ ہے: وما أصابكم من مصيبة فبما كسبت ايديكم (الشورى (۳۰) یعنی جو مصیبت بھی تم پر آتی ہے وہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی آپ کو دوسرے کے خلاف شکایت پیدا ہو تو فوراً آپ کو یہ کرنا چاہیے کہ شکایت کا رخ اپنی طرف کر لیں۔ معاملہ کی کوئی ایسی تو جیہہ ڈھونڈیں جس میں قصور خود آپ کا نکلتا ہو۔ جب آپ کو یہ احساس ہوگا کہ کوتاہی خود آپ کی ہے، نہ کہ کسی غیر کی تو ایسی حالت میں یہ ہوگا کہ آپ اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے میں لگ جائیں گے، نہ کہ کسی مفروضہ دشمن کے خلاف فریاد اور احتجاج میں وقت ضائع کریں گے۔ بین کا ذکر ( )'ریر'
‹ Previous page Next page › Contents of October 2002 All issues