Al-Risala · November 2002 · page

ہجر جمیل

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲

اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: یا رسول اللہ، ارفق بہ، فواللہ لقد جاء نا اللہ بك وان قومه لينظمون له الخرز ليتوجوه، فانه ليرى أنك قد استلبته ملكاً ۔ (سیرت ابن ہشام، الجزء ۳، صفحہ ۳۳۶) یعنی اے خدا کے رسول، اُس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیجئے، خدا کی قسم، اللہ آپ کو ہمارے پاس لے آیا اور اُس کی قوم کے لوگ اُس کے لیے تاج تیار کر رہے تھے تا کہ وہ اُس کو اپنا بادشاہ بنائیں ۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ نے اُس کا مقام اُس سے چھین لیا ہے۔

یہ حسن اعراض کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔ ایک صورت یہ تھی کہ عبداللہ بن ابی کی شرانگیزی کا جواب سختی کے ساتھ دیا جاتا۔ صحابی نے گویا اپنے جواب میں یہ بتایا کہ اس معاملہ میں سختی کی ضرورت نہیں ، حسن اعراض ہی اس مسئلہ کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔

۴۔ اوپر ہجر جمیل کی وہ مثالیں ہیں جو سطور میں ہوتی ہیں۔ اب ایک بین السطور کی مثال لیجئے۔ جب کسی معاملہ میں ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اُس میں ایک اور بات پوشیدہ ہوتی ہے جو اگر چہ زبان سے بولی نہیں جاتی مگر وہ حقیقی مطلوب کے طور پر اس میں شامل رہتی ہے۔ اس کی ایک مثال حدیبیہ کا معاہدہ ہے۔

حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہفتہ قیام فرمایا۔ اس دوران قریش نے مختلف قسم کی زیادتیاں کیں۔ مثلاً ایک صحابی کو تنہا پا کر انہیں تیر مار کر ہلاک کر دیا۔ ایک بار رسول اللہ اپنے صحابہ کے ساتھ با جماعت نماز ادا کر رہے تھے، اتنے میں قریش کے کچھ لوگ آئے اور آپ پر تیر برسانے لگے۔ اس طرح کی اشتعال انگیز صورت حال کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے دس سال کا امن معاہدہ کر لیا۔

اس معاہدہ کی دفعات حضرت عمر پر سخت ناگوار تھیں۔ وہ حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور کہا: یا أبابكر أليس برسول الله ، قال : بلى ، قال : أولسنا بالمسلمين، قال : بلى ، قال : أوليسوا بالمشركين؟ قال : بلى ، قال : فعلام نعطى الدنية في ديننا ؟ ۔ (السيرة النبوية لابن كثير ۳/ ۳۲۰)۔ یعنی اے ابو بکر، کیا محمد اللہ کے رسول نہیں، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ عمر نے کہا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page