بنگلہ دیش کا سفر
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۶
بنگلہ دیش کا سفر
بنگلہ دیش کے دانشوروں کے ایک فورم کی طرف سے ڈھاکہ میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس کی کارروائیاں یکم جون سے ۳ جون ۲۰۰۱ تک جاری رہیں۔ اس کی دعوت پر بنگلہ دیش کا سفر ہوا۔ اس کا نفرنس کا عنوان یہ تھا:
South Asian Conference on Fundamentalism and Communalism: Role of Civil Society. ۳۰ مئی ۲۰۰۱ کی شام کو دہلی سے روانگی ہوئی۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ریاض پنجابی صاحب بھی اس سفر میں ساتھ تھے۔ ان کے ہمراہ دہلی ایئر پورٹ پہنچا۔ پروفیسر ریاض پنجابی صاحب کی معلومات بہت وسیع ہیں۔ انہوں نے ۱۹۹۵ کا ایک سبق آموز واقعہ بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ لندن میں سعودی عرب کے سفیر کے پاس کہیں سے ایک پارسل آیا جو دراصل پارسل بم تھا۔ سیکورٹی والوں نے اس بم کو ناکارہ بنا دیا۔ بعد میں سعودی سفیر سے پوچھا گیا کہ اس واقعہ کے بارے میں آپ کا تاثر کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ وہ لوگ جن کے پاس دلیل نہیں ہوتی وہ بم کا استعمال کرتے ہیں:
Those who do not have arguments use bombs.
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر مشیر الحسن صاحب بھی ڈھاکہ کی اس کانفرنس میں شریک ہوئے۔ دہلی ایر پورٹ پر ان سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوئیں۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کی ۱۹ ویں اور ۲۰ ویں صدی کی تاریخ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ اس دور کی مسلم شخصیتوں پر انہوں نے کئی کتابیں لکھی ہیں۔ میں نے ان سے گفتگو کے دوران کہا کہ ۱۹ ویں اور ۲۰ ویں صدی میں برصغیر ہند میں جو معروف مسلم شخصیتیں اٹھیں وہ میرے مطالعہ کے مطابق، سب کی سب حال رخی (present oriented) تھیں ۔ ان میں سے کوئی بھی شخصیت مجھے مستقبل رخی (future oriented) دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے میری اس رائے سے اتفاق کیا۔ پھر انہوں نے کہا کہ بعض افراد مثلاً حکیم اجمل خاں کو
‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues