Al-Risala · November 2002 · page 2

بے بنیاد شکایت

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲، صفحہ ۲

اس قِسم کے لوگ اپنا ذاتی مسئلہ تو ہوشیاری کے ساتھ درست کر لیتے ہیں مگر وہ عوام کو بدستور بے شعوری کی حالت میں چھوڑ دیتے ہیں۔ تاکہ وہ اُس کی بھاری قیمت ادا کرتے رہیں اور کبھی ترقی نہ کر سکیں۔ مسلمانوں کے لیے صحیح اندازِ غیر جانبدارانہ نصیحت کا انداز ہے۔ مگر اُن میں سے کوئی نصیحت کی بولی بولنے کے لیے تیار نہیں۔

ہندوستان میں مسلمانوں کے حالات کو میں نے ۱۹۷۴ء سے مسلسل دیکھتا رہا ہوں ۔ میرا تجربہ ہے کہ مسلمان اپنے مسئلہ کا حل قرآن میں نہیں ڈھونڈتے، وہ دوسروں کی باتیں سُن کر اپنی رائے بناتے ہیں۔ اسلام اُن کی زندگی کا صرف ایک رسمی حصہ ہے۔ اسلام اُن کا قومی کلچر ہے، وہ اُن کا دین نہیں۔ موجودہ مسلمانوں کی اجتماعی سوچ، اُن کی ملّی پالیسی قرآن سے ماخوذ نہیں۔

اپوزیشن پارٹیوں کے بیانات، ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹیں، تعلیم یافتہ طبقہ کا اظہارِ خیال، یہی مسلمانوں کی ذہن سازی کے ذریعے ہیں۔ اُن کا مشترک طریقہ یہ ہے کہ وہ حالات کو قانون اور منطق کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جب بھی اُنہوں نے جنگ کی آگ بھڑکائی تو خُدا نے اس آگ کو بجھا دیا (المائدہ ٦٤)

اس اعتبار سے دیکھیے تو دوسروں کا طریقہ آگ بھڑکانے والوں کی مذمت کرنا ہے۔ جب کہ قرآن کے مطابق، مسلمانوں کا طریقہ آگ بجھانے کا ہونا چاہئے ، نہ کہ ایسا طریقہ اختیار کرنا جو آگ کو مزید بھڑکانے کا سبب بن جائے ۔ اس طرح کے معاملات میں قرآن کا طریقہ اصلاحِ خویش کے اصول پر قائم ہے اور دوسروں کا طریقہ احتسابِ غیر کے اصول پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page