Al-Risala · November 2002 · page 10

جوابات

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۲، صفحہ ۱۰

ہے کہ وہ جدید مسلم نسلوں کی کامیاب رہنمائی کر سکیں۔

۱۲۔ سیاست میں حصہ لینا کوئی غلط یا غیر شرعی بات نہیں۔ مگر موجودہ زمانہ کے علماء اپنی فکری اور علمی پس ماندگی کی بنا پر اس قابل نہیں ہیں کہ وہ سیاست میں کوئی مفید کردار ادا کر سکیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ زمانہ کے علماء نے بڑے پیمانہ پر سیاست میں عملاً حصہ لیا ہے۔ مگر وہ اپنے اس سیاسی عمل سے مسلمانوں کو تباہی کے سوا کچھ اور نہ دے سکے۔

۱۳۔ میرے نزدیک یہ مفروضہ غلط ہے کہ ملت بھیڑیوں کا چارہ بن رہی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ملت خود اپنی غلطیوں کی قیمت ادا کر رہی ہے۔ جہاں تک اہون البلیتين کا تعلق ہے، وہ ایک مسلمہ شرعی اصول ہے۔ حدیث میں اس کو اختیار اعسر کے مقابلہ میں اختیار ایسر کہا گیا ہے (صحیح البخاری)۔ حسب ضرورت اس کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں۔

۱۴۔ فقہی مسالک کوئی دورِ جدید کی چیز نہیں۔ وہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں موجود تھے۔ جو فرق ہے وہ یہ کہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں فقہی فروق کی بنیاد پر گروہی مسالک نہیں بنے۔ جب کہ موجودہ زمانہ میں اس قسم کے فروق کو لے کر انتہا پسندانہ گروہی مسالک بنا دیے گئے ہیں۔ اس معاملہ کو میں نے اپنی کتاب ”تجدیدِ دین‘‘ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اسلامی شریعت کے دو بڑے حصے ہیں۔ ایک بنیادی احکام کا حصہ اور دوسرے ضمنی اور فروعی احکام کا حصہ۔ بنیادی احکام سب کے سب یکساں ہیں، اُن میں کوئی فرق و اختلاف نہیں۔ مگر ضمنی اور فروعی احکام میں بہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ دونوں قسم کے احکام کے درمیان یہ فرق عین فطری ہے اور وہ ہمیشہ باقی رہے گا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ فروعی اختلافات کو توسع اور تنوع (diversity) پر محمول کیا جائے۔ اُن کے معاملہ میں رواداری کا انداز اختیار کیا جائے، نہ کہ شدت پسندی کا انداز۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2002 All issues

Printed page