فرقوں میں بٹ جانا
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۲
فرقوں میں بٹ جانا
اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے اور باہم اختلاف کیا جب کہ ان کے پاس واضح دلائل آ چکے تھے۔ اور ان کے لئے بڑی سزا ہے۔ (آل عمران ۱۰۵)
جب کسی قوم کی توجہ خدا کی طرف سے ہٹتی ہے تو اس کی توجہ اپنے آپ کی طرف لگ جاتی ہے۔ اب اس کے افراد کے اندر خود پسندی اور مفاد پرستی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ افتراق اور اختلاف ہے۔ جب لوگوں کی توجہ خدا کی طرف لگی ہوئی ہو تو آپس کا اختلاف قدرتی طور پر دب جاتا ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ باہمی اتحاد ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جب لوگوں کی توجہ اپنی ذات کی طرف لگ جائے تو ہر ایک کی رائے اور ہر ایک کا مفاد الگ الگ ہو جاتا ہے۔ اس کے قدرتی نتیجہ کے طور پر باہمی اختلاف اور آپس کا ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔
اتحاد خدا سے خوف کا لازمی نتیجہ ہے، اور اختلاف خدا سے بے خوفی کا لازمی نتیجہ۔ کسی مذہبی گروہ میں اختلاف اس بات کی علامت ہے کہ اس کی زندگی تقویٰ کی پٹری سے اتر کر کسی اور پٹری پر چلنے لگی ہے۔ اتحاد نام ہے اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا۔ مختلف اسباب سے ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان طرح طرح کے اختلاف پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ اختلافات ناگزیر ہیں۔ کسی بھی تدبیر سے اختلافات کے وجود کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی حالت میں اصل چیز یہ نہیں ہے کہ لوگوں کے درمیان سرے سے اختلاف موجود نہ ہو۔ اصل چیز یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ مزاج پایا جائے کہ وہ اختلاف کے باوجود باہم مل کر کام کر سکیں۔
یہ مزاج لوگوں کے اندر کسی برتر مشن کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔ خدا کا سچا عقیدہ لوگوں کے اندر یہی مزاج پیدا کرتا ہے۔ خدا کی عظمت کا تصور لوگوں کی نظر میں بقیہ تمام چیزوں کی اہمیت کو گھٹا دیتا ہے۔ مزاج کی یہ تبدیلی لوگوں کے اندر یہ حوصلہ پیدا کرتی ہے کہ وہ اختلاف کو نظر انداز کر کے باہم متحد ہو جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues