سوالات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴
سوال و جواب ( سہ ماہی السلام، نئی دہلی کے سوال نامے کا جواب )
سوالات
۱۔ اسلام اگر ایک مہذب اور مثقف مذہب ہے تو وہ دوسرے مذاہب کی توہین کیوں کرتا ہے۔ اگر اس کی روحانی اور عملی قدریں بہت بلند ہیں تو وہ دیگر اقوام کے لیے تحقیر آمیز الفاظ کیوں استعمال کرتا ہے، کیا یہ ایک مذہب کا دوسرے مذہب کے تئیں نفرت کا اظہار نہیں ہے؟ ۔ الف۔ جب مشرک کو اسلام کی مذہبی کتابوں میں نجس کہا جاتا ہے اور ان کی بنائی ہوئی چیزوں کو چھونے سے روکا جاتا ہے اور اسلامی سلطنت میں برابر کے حقوق نہیں دیئے جاتے ہیں تو کیا اسلام کا ہندو دھرم یا دیگر مذاہب کے ساتھ بر اسلوک نہیں ہے؟
ب۔ اسلام کی مذہبی کتابوں میں کافر اور مشرک کا لفظ کچھ اس طرح استعمال کیا گیا ہے کہ اس سے ہندو دھرم کے ماننے والوں کو مراد لے کر کم تر درجے کا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے، کیا یہ مناسب بات ہے؟ ۔
ج۔ قرآن میں جگہ جگہ کافروں سے لڑنے اور مشرکین کا خون بہانے کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہ بات ایسی صورت حال میں اور بھی خطرناک ہو جاتی ہے جب کافر سے ہندو دھرم کے ماننے والے ہی مراد لئے جاتے ہیں، تو کیا خونریزی کی یہ تعلیم امن وامان کے خلاف ایک نظریاتی اور عملی کوشش نہیں ہے؟ ۔ ۲۔ جہاد کے بہت سے معانی ہوتے ہیں لیکن اس کا اصل معنی اس قوم کے ساتھ جنگ کرنا ہے جو مسلمان نہ ہو۔ گویا مسلم قوم کی سیاسی بالا دستی کے لئے لڑائی کرنا۔ کیا اس خیال کی تشہیر منطقی اور معقول بات ہے؟ ۔
۳۔ اسلام پر ایک الزام ہے کہ وہ نوع انسانی کو دو حصوں، مسلم و کافر میں تقسیم کرتا ہے۔ مسلمان نہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues