Al-Risala · December 2002 · page

جوابات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

جوابات

١۔ یہ بات سراسر خلاف واقعہ ہے کہ اسلام دوسرے مذاہب کی توہین کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی اخلاقی تعلیمات میں سے ایک تعلیم یہ ہے کہ دوسرے مذاہب کو برا نہ کہا جائے۔ کیوں کہ اس سے مذاہب کے درمیان باہمی احترام کا ماحول ختم ہوتا ہے (الانعام ۱۰۸) اسی طرح یہ بات بھی سراسر بے بنیاد ہے کہ اسلام دوسری قوموں کی تحقیر کرتا ہے۔ اس کے برعکس، قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے پیغمبروں نے اپنے غیر مسلم معاصرین کو ہمیشہ ’’اے میری قوم‘‘ کہہ کر خطاب کیا (الاعراف ۵۹)۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے مطابق، دیگر اقوام کو نہ غیر قوم سمجھنا درست ہے اور نہ اُن کے ساتھ بُرا سلوک کرنا جائز ہے۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق، کھلے دشمن کے ساتھ بھی نفرت کرنا جائز نہیں (فصلت ۳۴)۔ ایسی حالت میں صرف مذہبی فرق کی بنا پر نفرت کرنا کیسے جائز ہوسکتا ہے۔ الف۔ یہ کہنا درست نہیں کہ اسلام میں مشرک کو عمومی طور پر نجس قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کی آیت انما المشرکون نجس (التوبہ ۲۸) کا یہ مطلب نہیں۔ یہ آیت محدود زمانی مفہوم میں ہے۔ اس میں ’’المشرکون‘‘ سے مراد صرف عرب کے وہ قدیم مشرک ہیں جو پیغمبر ﷺ کے ہم عصر تھے۔ اْنہوں نے کسی حق کے بغیر یہ کیا تھا کہ حضرت ابراہیم کے تعمیر کیے ہوئے دار التوحید کو ظلماً دار الاصنام بنا دیا تھا۔ اس لیے رسول اللہ کے ان معاصر لوگوں کے بارے میں قرآن میں یہ حکم آیا کہ یہ مشرکین نجس ہیں۔ اس لیے وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے نزدیک نہ آئیں (التوبہ ۲۸)۔ اسی طرح یہ بات بالکل غلط ہے کہ مشرکین کی بنائی ہوئی چیزوں کو چھونا اسلام میں ناجائز ہے۔ یہ سراسر بے بنیاد بات ہے۔ اس کی کوئی اصل اسلام کی تعلیمات میں نہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی بنائی ہوئی چیزوں کو مُس کیا ہے۔ حال میں کچھ لوگوں نے یہ ’’فتویٰ‘‘ دیا کہ امریکہ کی مصنوعات کو مسلمان نہ خریدیں۔ یہ بلاشبہ ایک خود ساختہ فتویٰ ہے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات بھی سراسر بے بنیاد ہے کہ اسلامی سلطنت میں غیر مسلموں کو برابر کے حقوق حاصل نہیں۔ بین اقوامی امور میں اسلام کا وہی مسلک ہے جو دوسری قوموں کا مروجہ مسلک ہے۔ اس لیے آج اگر

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page