Al-Risala · February 2002 · page 7

تشدد کا اسلامائزیشن

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۷

دے۔ اس عقیدے کے تحت ان لوگوں نے مختلف ملکوں میں پچاس ملین سے زیادہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

نظریاتی قتل کی دوسری بھیانک مثال وہ ہے جو مسلم دنیا میں ظہور میں آئی۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں اس انتہا پسندانہ نظریہ کو فروغ حاصل ہوا۔ اس نظریہ کو وضع کرنے اور پھیلانے میں موجودہ زمانہ کی دو مسلم جماعتیں خاص طور پر ذمہ دار ہیں ـــــــــ عرب دنیا میں الاخوان المسلمون، اور غیر عرب دنیا میں جماعت اسلامی۔

الاخوان المسلمون نے اپنے مخصوص نظریہ کے تحت یہ نعرہ اختیار کیا۔ : القرآن دستورنا والجہاد منهجنا ۔ یعنی قرآن ہمارا آئین ہے اور جہاد (مشددانہ طریق کار) کے ذریعہ ہمیں اس کو ساری دنیا میں نافذ کرنا ہے۔ عرب دنیا میں یہ نعرہ اتنا مقبول ہوا کہ سڑکوں پر یہ نغمہ سنائی دینے لگا: هلم نقاتل هلم نقاتل فإن القتال سبيل الرشاد فلسطین سے لے کر افغانستان تک اور چیچنیا اور بوسنیا تک جہاں جہاں اسلامی جہاد کے نام پر تشدد کیا گیا وہ سب اسی نظریہ کا نتیجہ تھا۔

اسی طرح جماعت اسلامی نے یہ نظریہ بنایا کہ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں جو نظام رائج ہے وہ طاغوتی نظام ہے۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس طاغوتی نظام کو مٹائے اور اس کی جگہ اسلامی نظام کو نافذ کرے۔ یہ کام اتنا ضروری ہے کہ اگر وہ فہمائش کے ذریعہ پورا نہ ہو تو اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ تشدد کی طاقت کو استعمال کر کے اہل طاغوت سے اقتدار کی کنجیاں چھین لیں اور اسلامی قانون کی حکومت ساری دنیا میں نافذ کر دیں۔ پاکستان اور کشمیر جیسے مقامات پر اسلام کے نام سے جو تشدد ہو رہا ہے وہ مکمل طور پر اسی خود ساختہ نظریہ کا نتیجہ ہے۔

۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء سے پہلے اور ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد دنیا کے مختلف مقامات پر اسلام کے نام سے جو بھیانک تشدد ہوا یا ہو رہا ہے، وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر انہی دونوں نام نہاد انقلابی تحریکوں کا نتیجہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page