گمراہ نہ ہونا
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۴
اس حدیث کے الفاظ کو لے کر کچھ لوگوں نے یہ مسئلہ بنایا کہ کلمہ گو کے لئے جنت ہے۔ یعنی کلمہ کے الفاظ میں کچھ ایسی پراسرار فضیلت موجود ہے کہ زبان سے اس کا تلفظ کر لینا ہی جنت میں داخلہ کے لئے کافی ہو جائے گا۔ یہ تشریح درایت کے نقطۂ نظر سے بظاہر قابل فہم معلوم نہیں ہوتی۔ کیوں کہ جنت جیسی قیمتی چیز کسی آدمی کو حقیقی عمل کی بنیاد پر ملنی چاہئے، نہ کہ محض کچھ الفاظ کی لسانی ادائیگی سے۔ اب اگر قرآن خدا نخواستہ محفوظ حالت میں نہ ہو تو ہمارے پاس وہ مستند معیار (criterion) ہی موجود نہ ہوگا جس پر جانچ کر اس کے صحیح یا غلط ہونے کو معلوم کیا جاسکے۔
اب اگر اس نظریہ کو قرآن کے معیار پر جانچا جائے تو قرآن میں ہمیں اس کا واضح جواب مل جاتا ہے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے سورہ المائدہ ۸۳۔ ۸۵ کا مطالعہ کیجئے۔ قرآن کی اس آیت میں بھی وہی بات کہی گئی ہے جو مذکورہ حدیث میں ہے، یعنی قول پر جنت کا انعام (فاثابهم الله بما قالوا جنت) مگر اسی کے ساتھ قرآن کی اسی آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قول سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد قول معرفت ہے، نہ کہ مجرد قول لسانی۔ اس سے مراد معرفت حق ہے (مما عرفوا من الحق)۔ یعنی یہ بشارت اس انسان کے لئے ہے جس کو سچائی کا گہرا عرفان حاصل ہو۔ یہ عرفان اتنا گہرا تھا کہ اس کے اثر سے اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔ اس نے سچائی کا اعتراف کرتے ہوئے ایک زندگی کو چھوڑ اور دوسری زندگی کو اختیار کیا۔ کلمہ کی گواہی اس کی اندرونی شخصیت میں ایک مکمل انقلاب کا اظہار تھی۔ وہ اس بات کا اعلان تھی کہ کلمہ کی دریافت نے اس کو ایک نیا انسان بنا دیا ہے۔ نیت اور قول اور عمل، ہر اعتبار سے اب وہ ایک بدلا ہوا انسان ہے، نہ کہ وہ انسان جو کلمہ کے اقرار سے پہلے تھا۔ قرآن اگر خدا نخواستہ محفوظ حالت میں نہ ہو تو ’’کلمہ گو‘‘ کے نظریہ کی صحت اور غلطی کو معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہ ہوگا۔ جب کہ قرآن کے محفوظ ہونے کی بنا پر ہم اس حیثیت میں ہیں کہ اس نظریہ کی صحت و غلطی کو مستند طور پر جان سکیں۔ یہی وہ فرق ہے جس کی بنا پر ایسا ہوا کہ پچھلی امتیں مجموعی طور پر گمراہی کا شکار ہو گئیں۔ جب کہ امت مسلمہ کے لیے محفوظ کتاب الہی اس بات کی ضامن ہے کہ وہ کبھی بھی عمومی گمراہی کا شکار نہ ہو سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues