Al-Risala · April 2003 · page 6

گھر ایک تربیت گاہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۶

گھر ایک تربیت گاہ

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر کم خیر کم لأهله و أنا خيركم لأهلي (ابن ماجہ کتاب النکاح، الدارمی کتاب النکاح) یعنی تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے اچھا ہواور میں تم میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہوں۔ گھر کسی سماج کا ایک ابتدائی یونٹ ہے۔ جو کچھ زیادہ بڑے پیمانہ پر پورے سماج میں پیش آتا ہے وہی گھر کے اندر چھوٹے پیمانہ پر پیش آتا ہے۔ آدمی کے اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ باہمی تعلقات کے درمیان ہوتا ہے۔ ہر گھر گویا انہی تجربات کا ایک چھوٹا ادارہ ہے اور ہر سماج انہی تجربات کا ایک بڑا ادارہ۔

ہر عورت یا مرد جب اپنے اہل خانہ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں تو اُن کو کبھی خوش گوار تجربہ پیش آتا ہے اور کبھی ناخوشگوار تجربہ، کسی معاملہ میں اُن کے اندر نفرت کے جذبات بھڑکتے ہیں اور کبھی محبت کے جذبات، کبھی وہ خوشی سے دوچار ہوتے ہیں اور کبھی ناخوشی سے، کبھی اُن کی انا کو تسکین ملتی ہے اور کبھی اُن کی انا پر چوٹ لگتی ہے، کبھی وہ اعتراف کی صورت حال میں ہوتے ہیں اور کبھی بے اعترافی کی صورت حال میں، کبھی حقوق کی ادائیگی کا موقع ہوتا ہے اور کبھی حقوق کے انکار کا موقع، وغیرہ۔

گھر کے اندر پیش آنے والی یہ مختلف حالتیں ہر عورت اور ہر مرد کے لیے اپنی تیاری کے مواقع ہیں۔ جولوگ ایسا کریں کہ وہ ہمیشہ اپنے شعور ایمان کو زندہ رکھیں، وہ اپنا احتساب کرتے ہوئے زندگی گزاریں، اُن کو ہمیشہ آخرت کی پکڑ کا احساس لگا ہوا ہو۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ جب بھی مذکورہ بالا قسم کا کوئی موقع اُن کے سامنے آئے گا تو وہ متنبہ ہو جائیں گے اور صحیح اسلامی روش کو اختیار کریں گے۔

جو عورت اور مرد اپنے گھر کے اندر اس قسم کی ہوش مندانہ زندگی گزاریں، اُن کے لیے اُن کا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues

Printed page