Al-Risala · May 2003 · page

Symbiosis between Science & Spirit

الرسالہ، مئی ۲۰۰۳

غیر جانبدار بنا دیا جائے۔ اس کا مطلب عمل کے صحیح رُخ کو بتانا ہے۔ اور وہ یہ کہ برائی کے معاملہ میں ہمارا طریقہ خیر خواہانہ نصیحت کا ہونا چاہئے۔ بقیہ چیزوں کو اللہ کے اوپر چھوڑ دینا چاہئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ کرے۔ اللہ نے میری یہ دعا قبول کر لی۔ اور میں نے دعا کی کہ وہ میری امت پر کسی خارجی دشمن کو مسلط نہ کرے۔ اللہ نے میری یہ دعا قبول کر لی۔ اور میں نے دعا کی کہ وہ اُن کو گروہوں میں نہ بانٹے کہ اُن کا ایک گروہ اُن کے دوسرے گروہ کو اپنی طاقت کا مزہ چکھائے۔ اللہ نے اس کو قبول نہیں کیا۔ (مسند احمد، الجزء ۵، صفحہ ۲۴۸)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی تحریک کے غیر مطلوب ہونے کی پہچان کیا ہے۔ وہ پہچان یہ ہے کہ کیا اس تحریک کے ذریعہ مسلمان دو حصوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔ جب بھی کسی تحریک کا یہ نتیجہ نکلے کہ مسلمان دو گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے ٹکرانے لگیں تو یقینی طور پر ایسی تحریک ایک غیر مطلوب تحریک ہے۔ اُس کو خدا کی مدد حاصل نہیں۔ ایسی تحریک کا اگر پھیلاؤ ہو تو یقینی طور پر یہ پھیلاؤ شیطان کی مدد سے ہوگا، نہ کہ اللہ کی مدد سے۔

دو گروہوں میں بٹنے کا یہ معاملہ سیاسی عنوان سے بھی ہو سکتا ہے اور مذہبی عنوان سے بھی یا کسی اور عنوان سے بھی۔ کسی مسلم تحریک کے مطلوب ہونے کی اصل پہچان یہ نہیں ہے کہ وہ قرآن و حدیث کے نام پر اُٹھائی گئی ہے۔ بلکہ اصل پہچان یہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے اندر اتحاد فروغ پا رہا ہے یا اختلاف۔ جس تحریک کے ذریعہ مسلمانوں میں اتحاد فروغ پائے وہ خدا کی مطلوب تحریک ہے اور جس تحریک کے ذریعہ مسلمانوں میں تفریق و اختلاف فروغ پائے وہ خدا کے نزدیک غیر مطلوب تحریک ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2003 All issues

Printed page