Al-Risala · June 2003 · page

امن اور اسلام

الرسالہ، جون ۲۰۰۳

امن اور اسلام

پیسیفزم (Pacifism) مستقل مرض ہے جس کی وجہ سے دنیا میں جنگ و فتنہ کی پیسیفزم(pacifism) ایک مستقل موضوع ہے، جس پر صدیوں سے غور و فکر جاری ہے اور اس کے بارے میں اہل علم نے بہت کچھ لکھا ہے اور لکھ رہے ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) میں پیسیفزم پر ایک تفصیلی مقالہ ہے جو ۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ مقالہ جرمن پروفیسر موہلمان (wilhelm Emil Muhlmann) کا لکھا ہوا ہے جو اس موضوع پر ایکسپرٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پیسیفزم کے موضوع پر انگریزی میں چھپی ہوئی چند کتابوں کے نام یہ ہیں : E. L. Allen, F.E. Pollard, and G. A. Sutherland, The Case for Pacifism and Conscientious Objection. 1946. Hannah Arendt, On Violence. 1970 Raymon Aron, Peace and War. 1962 C.J. Cadoux, Christian Pacifism Re-examined. 1940 Ted Dunn, Alternatives to War and Violence: A search. 1963. Carl Joachim Friedrich, Inevitable Peace. 1948 Richard Gregg, The Power of Non-violence. 1966 Aldous Huxley, An Encyclopaedia for Pacifism. 1937. Ralph T. Templin, Democracy and Non-Violence. 1965. تين 10. Quincy Wright, A Study of War. 1965. امن پسندی یا مذہبِ امن (Pacifism) صدیوں پرانی ایک تحریک ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دنیا سے جنگ کا خاتمہ کر دیا جائے تاکہ انسانی سماج میں مستقل طور پر امن کی حالت قائم ہو۔ وہ تحریکیں جن کو عدم تشدد کی تحریک (non violent movement) کہا جاتا ہے، اُن کا مقصد جزئی یا بنیادی طور پر یہی رہا ہے۔

پیسیفزم کی یہ تحریک تاریخ کے تقریباً تمام دوروں میں پائی جاتی رہی ہے۔ کبھی مذہبی بنیاد پر اور Apr-2003

‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues

Printed page