اسلام اور دہشت گردی
الرسالہ، جون ۲۰۰۳
اختیار کرو، نہ کہ منازعانہ طریق عمل (confrontational course of action)۔ ظاہر ہے کہ اگر اسلام کی اس تعلیم کو اختیار کیا جائے تو نزاع پیدا ہونے کے باوجود تشدد کی نوبت نہیں آئے گی۔ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے پیغمبر اسلام کا ایک قول بہت زیادہ مددگار ہو سکتا ہے۔ وہ قول یہ ہے کہ ان الله يعطى على الرفق ما لا يعطى على العنف (صحیح مسلم) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا۔
پیغمبر اسلام کے اس قول میں فطرت کا نظام بتایا گیا ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا نے فطرت کا جو نظام قائم کیا ہے وہ ایسے اصولوں پر مبنی ہے کہ یہاں کسی مقصد کے حصول کے لیے پرامن طریقہ زیادہ کارآمد اور نتیجہ خیز ہے۔ اس کے مقابلہ میں پرتشدد طریقہ تخریب کاری تو کر سکتا ہے مگر وہ کسی مثبت مقصد کے حصول کے لیے نتیجہ خیز نہیں۔
یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ اسلام اور مسلمان دونوں ایک چیز نہیں۔ اسلام ایک آئیڈیالوجی کا نام ہے اور مسلمان اُس گروہ کا نام ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کو اپنے مذہب کے طور پر اختیار کیا۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے عمل کو اسلام کی تعلیم سے جانچا جائے گا، نہ یہ کہ مسلمان جو کچھ کریں اُس کو اسلام سمجھ لیا جائے۔
کوئی مسلمان یا مسلمانوں کا کوئی گروہ اگر تشدد کرے تو یہ اُس کا اپنا ذاتی فعل ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن کی زبان سے کہا جائے گا کہ اگرچہ وہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں مگر انہوں نے اسلام کو دل سے قبول نہیں کیا۔ (الحجرات ۱۴)
اسلام اور دہشت گردی
اگر کوئی شخص کرسچین ٹررزم کا ٹرم استعمال کرے تو کہنے والا کہے گا کہ تم متضاد ترکیب (contradictory term) استعمال کر رہے ہو۔ کرسچین کا کوئی تعلق ٹررزم سے نہیں ہے۔ چنانچہ مسیح نے کہا ہے کہ تم اپنے دشمن سے محبت رکھو (Love your enemy) کرسچینیٹی کی تعلیمات Love پر مبنی ہیں۔ ایسی حالت میں کرسچین ٹررزم کے کوئی معنی نہیں۔ مگر یہ آدھی سچائی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ مسیح نے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues