ایک ملاقات
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۶۱
ایک ملاقات
۱ مئی ۲۰۰۳ کو دہلی میں ایس آئی او (SIO) کے دفتر میں میرا ایک پروگرام تھا۔ یہاں مجھے اسلام پسند نوجوانوں سے گفتگو کا موقع ملا۔ ایک نوجوان مسٹر شمشاد احمد نے سوال کیا کہ آج کے تعلیم یافتہ طبقہ کو کس طرح موثر انداز میں اسلام کا پیغام پہنچایا جائے۔ یہی سوال زیادہ تر گفتگو کا موضوع رہا۔ میں نے کہا کہ عام طور پر یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ اسلام آج کی دنیا میں کمتر ذہنی سطح کے لوگوں کی دلچسپی کا موضوع بن کر رہ گیا ہے۔ اعلیٰ ذہنی سطح کے لوگ اسلام کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ اس کا سبب مدعو کے اندر نہیں بلکہ داعی کے اندر ہے۔
دعوت کے نام پر موجودہ زمانہ میں بہت سی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر یہ سرگرمیاں وقت کے اعلیٰ فکری مستوى (intellectual level) کے مطابق نہیں ۔ ان دعوتی سرگرمیوں میں کوئی فضائل کی کہانیاں سنا رہا ہے ۔ کوئی فخر پسندی کی غذا دے رہا ہے۔ کوئی اسلام کو سیاسی غلبہ کا موضوع بنائے ہوئے ہے۔ کوئی ملی مسائل پر تقریر کر نے کو دعوت سمجھے ہوئے ہے۔ کوئی کمیونٹی ورک میں مشغول ہے اور اس کو دعوہ ورک کا نام دئے ہوئے ہے۔ اس قسم کا انداز اعلیٰ ذہنی سطح کے لوگوں کو اپیل نہیں کر سکتا اس لیے وہ اس کی طرف متوجہ بھی نہیں ہوتے۔
قرآن میں دعوتی کلام کا معیار یہ بتایا گیا ہے کہ وہ قولا بلیغاً فی انفسہم (النساء ۶۳) کا مصداق ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرے۔ موجودہ زمانہ کے داعیوں کا کلام جدید انسان کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرتا۔ اس لیے اسلام ان کے لیے قابل غور چیز بھی نہیں بنتا۔ آج دنیا میں ہر جگہ لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں مگر یہ زیادہ تر متوسط طبقہ کے لوگ ہیں۔ بہت کم ایسے افراد ہوں گے جو مثبت معنوں میں ذہنی انقلاب کے بعد اسلام میں داخل ہوئے ہوں ۔ جدید تاریخ میں ایسے قلیل افراد کی ایک مثال مجھے ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیائے میں ملتی ہے۔ وہ ایک سچے متلاشی حق تھے۔ انہوں نے اپنے گہرے ذاتی مطالعہ سے اسلام کو سمجھا اور اس کو قبول کیا۔ ان کا واقعہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2003 All issues