Al-Risala · October 2003 · page

001 — علم کی اہمیت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳

001 — علم کی اہمیت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ۵۷۰ء میں عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔ ۶۱۰ء میں جب کہ آپ کی عمر ۴۰ سال کی ہوگئی تو آپ کو خدا نے نبوت عطا فرمائی۔ خدا کی طرف سے پہلی وحی جو آپ پر آئی وہ یہ تھی: پڑھ، اپنے رب کے نام سے جس نے تم کو پیدا کیا۔ انسان کو علق سے پیدا کیا۔ پڑھ، اور تمہارا رب کریم ہے۔ اس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا (العلق)

حقیقت یہ ہے کہ علم تمام انسانی ترقیوں کا آغاز ہے۔ انسان کو خدا نے بظاہر ایک حیوان کے روپ میں پیدا کیا ہے۔ مگر انسان کو ایک امتیازی صلاحیت دی گئی ہے اور وہ اس کا دماغ ہے۔ انسانی دماغ میں لامحدود حد تک غیر معمولی صلاحیت رکھی گئی ہے۔ اس صلاحیت کو بیدار کرنے کے لیے علم کی ضرورت ہے۔ علم کی مدد سے انسانی دماغ ترقی کرتا ہے اور بڑھتے بڑھتے اعلیٰ ترین درجہ تک پہنچ جاتا ہے۔ علم کے ذریعہ آدمی تاریخ کو جانتا ہے۔ وہ فطرت کے رازوں کو دریافت کرتا ہے۔ وہ چیزوں کی ظاہری سطح سے گزر کر ان کی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے۔ علم کی یہ اہمیت ایک انسان کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ دوسرے انسان کے لیے۔

002 — علم حاصل کرو

پیغمبر اسلام نے فرمایا: علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر فرض ہے۔ اس حدیث سے اسلام میں علم کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ خدا کی معرفت علم کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ اس لیے علم سیکھنے کو فرض قرار دیا گیا۔ علم آدمی کے شعور کو بڑھاتا ہے۔ علم سے آدمی کے ذہن کی کھڑکیاں کھلتی ہیں۔ علم سے سوچ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ علم کے ذریعہ آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ زیادہ گہری حقیقتوں کو سمجھ سکے، وہ دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنے ذہنی معیار کو بلند کر سکے۔ مذہبی اور روحانی ارتقاء کے لیے علم لازمی طور پر ضروری ہے۔ علم کے ذریعہ ذہن میں پختگی آتی ہے۔ علم کے ذریعہ فکری ارتقاء کا عمل جاری ہوتا ہے۔ علم کے بغیر آدمی نہ مقدس کتابوں کو پڑھ سکتا ہے اور نہ تاریخ اور کائنات کے بارے میں زیادہ باخبر ہو سکتا۔ علم آدمی کو حیوان کی سطح سے اٹھا کر انسان کی سطح پر پہنچا دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues

Printed page