Al-Risala · October 2003 · page

015 - علمی تواضع

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳

اس حدیث سے تعلیم و تربیت کا ایک وسیع تصور سامنے آتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم و تربیت کے عمل کا تعلق صرف اسکول اور مدرسہ سے نہیں۔ بلکہ اسکول کے احاطہ سے باہر بھی اس کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت کی دنیا میں ہر چھوٹی بڑی چیز کے اندر کوئی نہ کوئی علم چھپا ہوا ہے۔ معلم اگر بیدار ذہن رکھتا ہو تو وہ اپنے طلبہ کے لیے اسکول اور مدرسہ کے باہر کی دنیا کو بھی تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک رہنما اپنے پیروؤں کے لیے ہر منظر اور ہر تجربہ سے علم اخذ کر کے ان کی ذہنی اور روحانی تربیت کا سامان کر سکتا ہے ۔ ہماری دنیا پوری کی پوری ایک وسیع تعلیم گاہ ہے۔ جو آدمی علم کا سچا طالب ہو وہ ہر لمحہ اپنے علم میں اضافہ کرتا رہے گا۔ اس کا علمی سفر کبھی ختم نہ ہوگا۔ 017 ـــ علم اور سنجیدگی پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جو شخص اللہ سے ڈرے، وہ عالم ہے (من يخشى الله فهو عالم)۔ اس حدیث سے علم کا ایک اہم پہلو معلوم ہوتا ہے اور وہ سنجیدگی اور احتیاط ہے۔ علم صرف واقفیت کا نام نہیں۔ کسی شخص کو جب گہرائی کے ساتھ علم حاصل ہوتا ہے تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا کے بارے میں وہ محتاط بن جاتا ہے۔ یہ احتیاط اس کے اندر سنجیدگی پیدا کرتی ہے۔ جہاں علم ہو اور سنجیدگی نہ ہو تو یہ سمجھنا چاہئے کہ وہاں حقیقی معنوں میں وہ چیز نہیں جس کو علم کہا گیا ہے۔ سچا علم آدمی کو ایک نیا انسان بنا دیتا ہے۔ سچے علم والا انسان حقائق فطرت سے باخبر رہتا ہے اور جو آدمی حقائق فطرت سے باخبر ہو جائے وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ تضاد میں جئے۔ وہ غیر محتاط انداز میں کلام کرے، وہ لوگوں کے ساتھ غیر سنجیدہ معاملہ کرے۔ سچا علم آدمی کو ہر قسم کی غیر ذمہ داری سے بچاتا ہے۔ سچا علم آدمی کو پورے معنوں میں سنجیدہ اور ذمہ دار انسان بنا دیتا ہے۔ 018 ـــ علم میں اضافہ قرآن میں ایک دعا ان الفاظ میں بتائی گئی ہے : رب زدنی علما (اے میرے رب تو میرا علم زیادہ کر دے)۔ اس قرآنی دعا سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں علم کے حصول کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر مرد اور ہر عورت مسلسل اپنے علم میں اضافہ کرنے کی کوشش کرتے رہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues

Printed page