Al-Risala · October 2003 · page

030 ـ ٹکراؤ سے پرہیز

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳

030 ـ ٹکراؤ سے پرہیز

پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ مومن کے لیے سزاوار نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے ۔ پوچھا گیا کہ کوئی شخص خود اپنے آپ کو کیوں ذلیل کرے گا ۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ ایسی بلا کا سامنا کرے جس سے نپٹنے کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔ اس حدیث میں زندگی کا ایک حکیمانہ اصول بتایا گیا ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ آدمی کی کارروائی ہمیشہ نتیجہ خیز ہونا چاہئے۔ ایک ایسی طاقت جس سے مقابلہ کرنے کا سازوسامان اس کے پاس نہ ہو، اگر وہ کوئی عذر لے کر ایسی طاقت سے ٹکرا جائے تو اس کا انجام یہ ہوگا کہ وہ ذلت اور ناکامی سے دوچار ہوگا۔ ایسا فعل جو یکطرفہ طور پر خود فاعل کی تباہی میں اضافہ کرنے والا ہو اس میں اپنے آپ کو الجھانا کسی بھی اعتبار سے درست نہیں۔

031 ـ اپنے سے کم کو دیکھو

پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ مادی معاملہ میں اپنے سے اوپر کو نہ دیکھو بلکہ اپنے سے نیچے کو دیکھو۔ اس طرح تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو حقیر نہ سمجھو گے ۔

اس دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہمیشہ اونچ اور نیچ قائم رہتی ہے۔ کوئی آگے ہوتا ہے اور کوئی پیچھے ۔ اس کی مصلحت یہ ہے کہ اس طرح مسابقت (competition) کا ماحول قائم رہتا ہے۔ اس مسابقت کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ زندگی کی ترقیاں اور سرگرمیاں ہمیشہ جاری رہتی ہیں۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی سے کوئی آگے ہوتا ہے اور کوئی اس سے پیچھے ۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھے ۔ اس تقابل کا فائدہ یہ ہوگا کہ جو کچھ خدا نے اس کو دیا ہے وہ اس کو زیادہ نظر آئے گا۔ وہ اس پر خدا کا شکر ادا کرتا رہے گا۔ اس کے برعکس اگر وہ ایسا کرے کہ صرف اپنے سے اوپر والے کو دیکھے تو اس کے اندر نفرت اور جھنجھلاہٹ کا مزاج پیدا ہوگا۔ مثبت مزاج آدمی کے ذہنی اور روحانی ارتقاء میں مددگار ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس منفی مزاج آدمی کے ذہنی اور روحانی ارتقاء کو روک دیتا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ دوسرے کی خاطر اپنے آپ کو ذہنی ارتقاء سے محروم نہ کرلے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues

Printed page