Al-Risala · October 2003 · page 17

034 — اعلی اخلاق

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳، صفحہ ۱۷

034 — اعلی اخلاق

پیغمبر اسلام نے اپنے کچھ ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، کیا میں تم کو بہتر اخلاق بتاؤں۔ لوگوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جو تم سے کٹے تم اس سے جڑو جو تمہیں محروم کرے تم اسے دو۔ جو تمہارے اوپر ظلم کرے تم اس کو معاف کردو۔ اس کو ایک لفظ میں یکطرفہ اخلاقیات کہا جاسکتا ہے۔ اس کے مطابق، اعلی اخلاق یہ نہیں ہے کہ جو خود اچھا سلوک کرے اس کے ساتھ آپ بھی اچھا سلوک کریں۔ یہ برابر کا اخلاق ہے۔ اور برابر کا اخلاق اعلی اخلاق نہیں۔ اعلی اخلاق وہ ہے جو خود اپنے اعلی اصول پر قائم ہو۔ جو دوسروں کے عمل کے جواب میں نہ ہو بلکہ خود اپنے اصولی رویہ کے تحت ہو۔ اعلی اخلاق یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے رویہ سے بلند ہو کر یکطرفہ طور پر حسن اخلاق پر قائم رہے۔ وہ ردّ عمل کی نفسیات سے اپنے آپ کو بچائے اور کسی بھی حال میں اپنے مثبت اخلاقی رویہ کو نہ چھوڑے۔ اعلیٰ انسانیت کی سب سے بڑی پہچان اعلی اخلاق ہے۔ اور اعلی اخلاق کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ دوسروں کی طرف سے منفی رویہ کے باوجود آدمی اپنے آپ کو مثبت رویہ پر قائم رکھے۔ 035 — بے نفس انسان قرآن میں اعلیٰ شخصیت کو بتانے کے لیے النفس المطمئنہ کا لفظ آیا ہے۔ النفس المطمئنہ کو دوسرے لفظوں میں نفسیاتی پیچیدگیوں سے خالی روح (complex-free soul) کہا جاسکتا ہے۔ یعنی وہ انسان جو ہر قسم کے منفی احساسات اور سطحی جذبات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔ دنیا میں آدمی مختلف حالات کے درمیان رہتا ہے۔ یہ حالات اس کے اندر طرح طرح کے جذبات پیدا کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً نفرت، بغض، کینہ، حسد، جلن، انتقام، تعصب، خود غرضی، غرور، خودنمائی، جاہ پسندی، بے اعترافی، وغیرہ۔ جو شخص اس قسم کے تمام جذبات سے اپنے آپ کو اوپر اٹھالے اس کو النفس المطمئنہ کہا گیا ہے۔ یہ ایک شعوری عمل ہے۔ کوئی شخص خود بخود النفس المطمئنہ نہیں بن سکتا۔ اس کو شعوری طور پر اپنا نگراں بننا پڑتا ہے۔ وہ بار بار اپنی تطہیر کا کام کرتا رہتا ہے۔ اس طرح یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی شخص النفس المطمئنہ بن سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues

Printed page