059 ــ تمام انسان بھائی بھائی
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳
عام طور پر لوگوں کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ جو سنا یا جو کچھ پڑھا اس کو فوراً مان لیا۔ حالاں کہ تجربہ بتاتا ہے کہ خبر دینے والا اکثر ایسا کرتا ہے کہ وہ ساری بات کو جانے بغیر خبر نشر کر دیتا ہے۔ جب کہ تحقیق کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ خبر بھی ادھوری تھی اور اس سے جو نتیجہ نکالا گیا وہ بھی ادھورا تھا۔ تحقیق کے بغیر کسی خبر کو مان لینا اکثر حالات میں نقصان کا سبب ہوتا ہے۔ اس سے بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے بارے میں غلط رائے قائم کر لیتے ہیں۔ حتی کہ بعض اوقات ایک غلط خبر لڑائی اور فساد کا سبب بن جاتی ہے۔ ایسی حالت میں ذمہ داری کا تقاضا یہ ہے کہ خبر کی پوری تحقیق کی جائے، تحقیق کے بغیر کسی خبر کو درست نہ مان لیا جائے۔
059 ــ تمام انسان بھائی بھائی
پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ اے خدا، میں گواہی دیتا ہوں کہ تمام بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ یہ حدیث انسانی تعلق کی بنیاد کو بتاتی ہے۔ اس کے مطابق ، تمام دنیا کے لوگ ایک خاندان کے مانند ہیں۔ ہر ایک کو چاہئے کہ وہ دوسرے کے ساتھ وہی سلوک کرے جو وہ اپنے گھر کے اندر اپنے بھائی سے کرتا ہے۔ یہ اصول عالمی برادری کا اصول ہے۔ یہ اصول اپنے اور غیر کی تقسیم کو مٹا دیتا ہے۔ اس کے بعد سب اپنے ہو جاتے ہیں۔ کوئی کسی کا غیر نہیں رہتا۔ یہ اصول تمام انسانی نسل کو ایک ایسے مضبوط رشتے میں باندھ دیتا ہے جس سے زیادہ مضبوط کوئی اور رشتہ نہیں۔
060 ــ تین چیزیں حرام
پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ ایک انسان پر دوسرے انسان کی تین چیزیں حرام ہیں ــــ اس کا خون اور اس کا مال اور اس کی آبرو۔ یہ اصول ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان آزادی کی حد قائم کرتا ہے۔ ہر انسان آزاد ہے۔ مگر اس کی آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں وہ دوسرے کی جان مال اور آبرو کے لیے خطرہ بن جائے۔
انسان کو اس دنیا میں آزادی دی گئی ہے کیوں کہ آزادی کے بغیر کوئی ترقی نہیں ہو سکتی۔ مگر یہ آزادی محدود ہے نہ کہ لامحدود۔ کسی آدمی کو اسی وقت تک آزادی حاصل ہے جب تک وہ دوسرے کی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues