065 - باہمی احترام
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳
چاہیے کہ وہ بھی دوسروں کی کوتاہیوں سے درگزر کرتا رہے۔
انسان کے ساتھ نرمی اور شفقت کا معاملہ کرنا گویا ایک عملی دعا ہے۔ یہ عمل کی زبان میں خدا سے یہ کہنا ہے کہ خدایا، میں نے تیرے بندوں کے ساتھ نرمی اور شفقت کا معاملہ کیا، تو تو بھی میرے ساتھ نرمی اور شفقت کا معاملہ فرما۔
065 - باہمی احترام
قرآن میں پیغمبر کی زبان سے کہلایا گیا ہے کہ اے لوگو، تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ کسی سماج میں جب کئی مذہب کے لوگ رہتے ہوں تو ان کے درمیان معتدل ماحول کس طرح قائم کیا جائے۔ اس کا سادہ فارمولا یہ ہے کہ ایک کی پیروی کرو اور ہر ایک کا احترام کرو: Follow one and respect all۔
مشترک مذہبی سماج میں امن قائم کرنے کا یہی واحد اصول ہے۔ یہ دنیا اختلاف کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں اختلافات کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل فارمولا صرف ایک ہے اور وہ tolerance ہے۔ یعنی ہر ایک کو یہ حق دینا کہ وہ اپنی پسند کے مطابق مذہب یا کلچر کو اختیار کرے۔ اختلاف کے موضوع پر ایک دوسرے سے پر امن ڈائیلاگ ہو سکتا ہے مگر اختلاف کو مٹانے کی کوشش صرف مزید اختلاف پیدا کرے گی، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
066 - مذہبی احترام
پیغمبر اسلام کے زمانہ میں مدینہ میں کچھ یہودی قبیلے آباد تھے۔ ایک دن پیغمبر اسلام نے دیکھا کہ ایک راستے سے ایک جنازہ گزر رہا ہے۔ پیغمبر اسلام اس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ جنازہ کو دیکھ کر آپ اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ آپ کے ایک ساتھی نے کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ نے فرمایا کہ کیا وہ انسان نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ انسان ہر حال میں قابلِ احترام ہے، خواہ وہ ایک مذہب کا ہو یا دوسرے مذہب کا، وہ ایک قوم کا فرد ہو یا دوسری قوم کا۔ کسی بھی عذر کی بنا پر اس کا احترام ختم نہیں کیا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues