072 - تواضع سے بلندی
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳
بہتر طریقہ وہ ہے جس میں آدمی کا راستہ کسی رکاوٹ کے بغیر طے ہوتا ہے اور کسی سے ٹکراؤ بھی پیش نہ آئے۔ اسی راستہ کو بیچ کا راستہ کہا جاتا ہے۔ بیچ کا طریقہ ہمیشہ معتدل طریقہ ہوتا ہے۔ معتدل طریقہ ہمیشہ قابل عمل ہوتا ہے۔ ایسے طریقہ میں آدمی اپنے آپ کو کسی بڑے خطرہ میں ڈالے بغیر آگے بڑھ سکتا ہے۔ معتدل طریقہ میں کسی ایسے بڑے نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا جس کے بعد آدمی کا پورا منصوبہ بکھر جائے اور آخر کار وہ مایوسی کا شکار ہو کر بیٹھ جائے۔
072 - تواضع سے بلندی
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جو شخص تواضع کا طریقہ اختیار کرے خدا اس کو بلندی عطا کرتا ہے۔ یہ خدا کا مقرر کیا ہوا ایک قانون ہے۔ اس کے مطابق ، تواضع کی روش آدمی کے لیے ترقی کے راستے کھولتی ہے۔ اس کے برعکس گھمنڈ کا طریقہ آدمی کو پستی کی طرف لے جاتا ہے۔ تواضع کا فائدہ دوطرفہ ہے۔ تواضع کرنے والے کو اس کا یہ فائدہ ملتا ہے کہ اس کے اندر روحانیت جاگتی ہے، اس کے اندر اعلیٰ انسانی صفات پیدا ہوتی ہیں۔ وہ خدا کے فیضان کو وصول کرنے لگتا ہے۔ اس کے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ چیزوں کو بے آمیز انداز میں دیکھ سکے۔ وہ شخص جس سے تواضع کا معاملہ کیا جائے وہ اپنے ضمیر کی آواز کے تحت تواضع کرنے والے کی عظمت کو ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ وہ اس کے مقابلہ میں سرکشی کرنے کا جذبہ کھو دیتا ہے۔ وہ مجبور ہو جاتا ہے کہ اس کی اخلاقی بڑائی کو مانے ۔ وہ اپنے مقابلہ میں اس کو زیادہ بڑا انسانی درجہ دے۔ تواضع صرف ایک روش ہے۔ اس میں آدمی کو کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ تواضع کرکے اسے کچھ کھونا نہیں پڑتا۔ مگر کچھ نہ کھو کر وہ سب کچھ حاصل کر لیتا ہے۔ تواضع کے خلاف روش اگر جھوٹی بڑائی ہے تو تواضع کے مطابق روش سچی انسانیت ۔
073 - فضول خرچی نہیں
قرآن میں اسراف (فضول خرچی) سے منع کیا گیا ہے۔ یعنی حقیقی ضرورت کے بغیر خرچ کرنا۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ یہ بھی اسراف ہے کہ تم ہر وہ چیز کھاؤ جس کو کھانے کی خواہش تمہارے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues