077 ـــ جو اپنے لیے وہی دوسروں کے لیے
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳
سخت کلامی کو سننے کے لیے تیار نہیں تو اس کو چاہئے کہ وہ اس سے قرض جیسا معاملہ بھی نہ کرے۔ قرض لینے کے بعد اس کو بہر حال قرض دینے والے کو یہ حق دینا ہوگا کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار جس طرح کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح کے معاملہ میں قرض لینے والے کو تحمل کی روش اختیار کرنا چاہئے۔ وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ برعکس طورپروہ قرض دینے والے کو تحمل کی نصیحت کرے۔ 076 ـــ حق سے زیادہ نہ لینا پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ دو آدمی اگر میرے پاس ایک زمین کا مقدمہ لے کر آئیں ۔ ان میں سے ایک شخص زیادہ ہوشیاری کے ساتھ اگر اپنا مقدمہ پیش کرے اور اس کی وجہ سے زمین اس کو دے دی جائے، جب کہ حقیقت میں وہ زمین اس کی نہ ہو تو گویا کہ اس کو آگ کا ایک ٹکڑا دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز آدمی کا واقعی حق نہ ہو، اس کے معاملہ میں اگر وہ کسی تدبیر سے اپنے موافق عدالتی فیصلہ لے لے تب بھی وہ چیز اس کی نہ ہوگی۔ کوئی عدالتی فیصلہ حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز پر ناجائز قبضہ ہر حال میں برا ہے۔ عدالت کا کوئی فیصلہ ناجائز کو جائز نہیں بنا سکتا۔ اگر آدمی کا ضمیر یہ کہتا ہو کہ فلاں چیز میری نہیں ہے تو ایسی حالت میں اس کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اس چیز کو حق دار کے حوالہ کردے، نہ کہ غلط تدبیر کے ذریعہ ناجائز طور پر دوسرے کی چیز پر قابض ہونے کی کوشش کرے۔ ضمیر سب سے بڑی عدالت ہے۔ سب سے بڑا فیصلہ وہ ہے جو ضمیر کی عدالت سے جاری کیا جائے۔
077 ـــ جو اپنے لیے وہی دوسروں کے لیے
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ مومن وہ ہے جو دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرے جو وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ یہ سماجی اخلاق کا ایک نہایت جامع اصول ہے۔ ہر آدمی یہ جانتا ہے کہ دوسروں کی طرف سے کون سا رویہ اس کو پسند ہے اور کون سا رویہ نا پسند ۔ ایسا ہی وہ دوسروں کے ساتھ کرنے لگے۔ وہ دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرے جو سلوک وہ اپنے لیے چاہتا ہے اور دوسروں کے ساتھ اس سلوک سے بچے جس کو وہ اپنے لیے پسند نہیں کرتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues