080 - قناعت
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳
ہے۔ کوئی بھی اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ میرے اور میرے رزق کے درمیان حائل ہو سکے۔ رزق میرا ایک ایسا حق ہے جو خود دنیا کے مالک نے میرے لیے لکھ دیا ہے۔ پھر کون ہے جو اس لکھے کو مٹا سکے۔ یہ عقیدہ آدمی کے اندر سے مایوسی کے احساس کو نکال دیتا ہے۔ وہ عین مسائل کے درمیان کھڑا ہو کر کہہ سکتا ہے کہ ــــ کوئی شخص میرے ایک جاب کو مجھ سے چھین سکتا ہے مگر کوئی شخص اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ میری قسمت کو مجھ سے چھین سکے۔
080 - قناعت
پیمبر اسلام نے فرمایا کہ وہ شخص کامیاب ہوا جس کو خدا نے ضرورت کے بقدر رزق دیا اور وہ اس رزق پر قانع رہا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کامیابی کا راز ملے ہوئے پر قانع رہنا ہے نہ کہ نہ ملے ہوئے کے غم میں پڑے رہنا۔ دنیا میں جب بھی کوئی شخص صحیح اصول کے مطابق کمانے کی کوشش کرے تو وہ ضرور اتنی معاش حاصل کر لیتا ہے جو اس کی ضرورتوں کے لیے کافی ہو۔ اگر وہ اس ملے ہوئے پر راضی ہو جائے تو اس کا فائدہ اس کو ذہنی سکون کی صورت میں ملے گا۔ لیکن سکون ہمیشہ قناعت سے ملتا ہے اور قناعت کا مطلب ہے ملے ہوئے پر راضی ہو جانا۔
اس کے برعکس جو شخص ملے ہوئے کو کم سمجھے اور نہ ملے ہوئے کی طرف دوڑتا رہے وہ کبھی مطمئن نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ دنیا میں چیزوں کی کوئی حد نہیں۔ آدمی خواہ کتنی ہی زیادہ چیزوں کو اپنے پاس جمع کر لے پھر بھی کچھ چیزیں باقی رہیں گی جو اس کو یہ لالچ دلائیں گی کہ مجھے یہ بھی حاصل کرنا چاہئے۔ اس طرح وہ ہمیشہ اور زیادہ کی لالچ میں پڑا رہے گا۔ وہ اسی طرح بے سکونی کی زندگی جئے گا یہاں تک کہ وہ یت رہا نہ ایہ اور پھر اس میں پڑا ہے، ماں باپ کے دل میں اس کی محبت اسی حال میں مر جائے گا۔
081 - کسی سے نہ مانگنا
۔۔۔رام ! اے رمایا ! نہ ہم سے پڑھنے کا رَدِّ عمل نہ پوچھیے؟
اکٹوبر 2003
‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues