093 - غصہ نہیں
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۳، صفحہ ۴۴
برائی بڑھتی رہے گی۔ یہاں تک کہ وہ قابو سے باہر ہو جائے گی۔
093 - غصہ نہیں
ایک شخص پیغمبرِ اسلام کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے کوئی ایسی نصیحت کیجئے جو میری پوری زندگی کو سدھارنے کا ذریعہ بن جائے۔ آپ نے فرمایا: تم غصہ نہ کرو۔ یہ بلاشبہ ایک نہایت جامع نصیحت ہے۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جس کو اگر آدمی اختیار کرلے تو اس کی زندگی کے تمام معاملات درست ہو جائیں۔
اصل یہ ہے کہ انسان ہمیشہ ایک سماج کے اندر رہتا ہے۔ اس کو بار بار ایسے ناپسندیدہ تجربات پیش آتے ہیں جو اس کو بھڑکا دیں اور اس کے اندر غصہ پیدا کر دیں۔ اور پھر جب آدمی غصہ میں آ جائے تو اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر نفرت اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ وہ غصہ دلانے والے کے خلاف انتقامی کارروائی کرتا ہے اور پھر ہر انتقام دوبارہ ایک نئے انتقام کو بھڑکاتا ہے۔ اس طرح انتقام در انتقام کا سلسلہ چل پڑتا ہے جو تباہی کے سوا اور کہیں نہیں پہنچاتا۔ ایسی حالت میں اپنی زندگی کے سفر کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ غصہ جیسے جذبات سے اپنے آپ کو اوپر اٹھائے۔ وہ منفی حالات کا بھی مثبت انداز میں جواب دے۔ 094 - غصہ کا حل پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ جب کسی آدمی کو غصہ آئے تو اگر وہ کھڑا ہے تو بیٹھ جائے۔ اگر وہ بول رہا ہے تو چپ ہو جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس حالت میں ہے وہ اس حالت کو بدل دے۔ حالت کی یہ تبدیلی اس کے لیے غصہ کو ختم کرنے کا سبب بن جائے گی۔
غصہ ایک آگ ہے جو کسی ناخوشگوار بات پر آدمی کے اندر بھڑکتی ہے۔ غصہ آدمی کو تخریبی طریقہ کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ ہمیشہ نقصان میں مبتلا کرنے والا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں عقلمندی یہ ہے کہ غصہ آتے ہی فوراً اس کو ٹھنڈا کرنے کی تدبیر کی جائے۔ تدبیر کے ذریعہ آدمی غصہ کو منٹوں میں ختم کر سکتا ہے۔ لیکن اگر غصہ کو باقی رہنے دیا جائے تو وہ آدمی کو ایسے نقصانات پہنچاتا ہے جس کی تلافی پھر کبھی ممکن نہ ہو۔ غصہ آنا ایک فطری بات ہے۔ غصہ آنا بذاتِ خود برا نہیں، بری بات یہ ہے کہ آدمی اپنے غصہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2003 All issues