ایمانی کیفیات
الرسالہ، فروری ۲۰۰۳
ایمانی کیفیات
ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عرض علی ربی عز و جل ليجعل لى بطحاء مكة ذهبا فقلت لا يا رب، ولكن اشبع يوماً و اجوع يوماً فاذا جعت تضرعت اليك و ذكرتك واذا شبعت حمدتك و شكرتك (مسنداحمد ۵/۲۵۲)
یعنی اللہ نے یہ پیشکش فرمائی کہ تمہارے لیے مکہ کی وادی کو سونا بنا دیا جائے۔ میں نے کہا کہ اے میرے رب، نہیں۔ بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میں ایک دن سیر ہو کر کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں۔ پھر جب مجھے بھوک لگے تو میں تجھ سے تضرع کروں اور تجھ کو یاد کروں اور جب مجھے سیری حاصل ہو تو میں تیری حمد کروں اور تیرا شکر کروں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمانی کیفیات کا تعلق براہ راست طور پر حالات سے ہے۔ زندگی میں جب بھی کوئی صورت حال پیش آتی ہے تو اس کے لحاظ سے مومن کے لیے ایمانی کیفیات کا سرمایہ موجود رہتا ہے۔ جس طرح احوال کی بہت سی قسمیں ہیں اسی طرح ایمانی کیفیات کی بھی بہت سی قسمیں ہیں۔ اور ہرقسم میں اُس کے مطابق، آدمی کے اندر ایمانی کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی کو امتحان کے لیے رکھا گیا ہے۔ اسی لیے یہاں ہر عورت اور مرد کے ساتھ طرح طرح کے احوال پیش آتے ہیں۔ ایسا اسی لیے ہوتا ہے تا کہ یہ دیکھا جائے کہ کون اپنی جانچ پر پورا اترا اور کون اس میں نا کام ہو گیا۔ اس دنیا میں آرام کی حالت ہو یا تکلیف کی حالت ہو، دونوں حالتیں اضافی ہیں۔ دونوں حالتوں میں اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اُس کے اندر کسی عورت یا مرد سے جو مطلوب رویہ درکار تھا اس کا ثبوت اُس نے دیا یا نہیں۔ اصل اہمیت حالات کے مقابلہ میں رد عمل کی ہے، نہ کہ خود حالات کی۔ یہ حقیقت جس عورت اور مرد پر واضح ہو جائے اُس کا حال یہ ہو جائے گا کہ اُس کی نظر آرام اور تکلیف پر نہ ہوگی بلکہ اس بات پر ہوگی کہ ملے ہوئے حالات میں اس نے کس قسم کے ردعمل کا ثبوت دیا۔ شکر کا یا ناشکری کا، صبر کا یا بے صبری کا۔ ایسے لوگ ہر حال میں اپنا احتساب کریں گے، نہ کہ خارجی حالات کا شکوہ کرتے رہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues