شدت پسندی نہیں
الرسالہ، فروری ۲۰۰۳
ہوتا ہے کہ متشددانہ طریقہ اُن کی روایات میں شامل ہو کر اُن کے دین کا جزء بن جاتا ہے۔ اس طرح اُن کی بعد کی نسلیں مجبور ہو جاتی ہیں کہ وہ اُن کی پیروی کریں۔ کیوں کہ ایسا کرنے کی صورت میں اُن کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ معیار سے کم تر درجہ کی دین داری اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس شدت پسندی کا تعلق محدود طور پر صرف رہبانیت سے نہیں ہے بلکہ اُس کا تعلق ہر دینی شعبہ سے ہے۔ مثلاً قومی اور سیاسی حقوق کی جدوجہد کے لیے دو ممکن طریقے ہیں۔ ایک پر امن جدوجہد، اور دوسری پر تشدد جدوجہد۔ اس معاملہ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ پر امن اور غیر متشددانہ طریقہ کار کے ذریعہ اپنے مقصد کے حصول کی جدوجہد کی جائے۔ اس کے برعکس اگر متشددانہ طریقہ کار کا انداز اختیار کیا جائے تو اس کا بیک وقت دو نقصان ہو گا۔ ایک یہ کہ قوم کو غیر ضروری سختیاں برداشت کرنی پڑیں گی۔ دوسرے یہ کہ جب ایک بار متشددانہ طریقہ کار کی روایت قائم ہو جائے گی تو اُسی کو جدوجہد کے اعلیٰ معیار کی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ متشددانہ طریقہ کار کو بے نتیجہ سمجھتے ہوئے بھی لوگ اس پر قائم رہیں گے، کیوں کہ اس سے ہٹنے کے بعد لوگوں کو محسوس ہوگا کہ انہوں نے خود دین کے مطلوب معیار کو چھوڑ دیا۔ انہوں نے عزیمت کے بجائے رخصت کا راستہ اختیار کر لیا۔ انہوں نے اقدام کے بجائے پسپائی کو اپنا طریقہ بنا لیا۔ شدت پسندی ہی کی ایک صورت وہ ہے جس کو انتہا پسندی (extremism) کہا جاتا ہے۔
انتہا پسندی یہ ہے کہ آدمی حقائق اور امکانات کو نظر انداز کر کے اپنے عمل کا نقشہ بنائے۔ وہ عقل کے بجائے اپنے جذبات کی رہنمائی میں چلنے لگے۔ وہ دور اندیشی کے بجائے عجلت پسندی کی روش اختیار کر لے۔ وہ تدریج کے بجائے چھلانگ کے ذریعہ اپنا سفر طے کرنا چاہے۔
ایسا آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ شوق کو اپنے آگے رکھ دیتا ہے اور دور اندیشی کو اپنے پیچھے ۔ وہ بھول جاتا ہے کہ ہر ایک کی ایک حد ہے، خواہ وہ کوئی فرد ہو یا کوئی گروہ۔ حد کو نظر انداز کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص جلتے ہوئے انگارے کی گرمی کا اندازہ کرنے کے لیے اُس کو اپنے ہاتھ میں لے لے۔ یا پتھر کو توڑنے کے لیے اپنے سر کو ہتھوڑا بنا لے۔ اس قسم کا ہر فعل حد سے تجاوز کرنا ہے۔ اور حد سے تجاوز کرنے والے لوگ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues