عالی شان مسجدیں
الرسالہ، فروری ۲۰۰۳
عالی شان مسجدیں
سنن ابی داؤد (کتاب الصلوۃ، باب فی بناء المساجد) میں عبداللہ بن عباس کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: ”قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما امرت بتشئيد المساجد“ قال ابن عباس لتزخرفنها كما زخرفت اليهود والنصاری۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ مجھے بلند و بالا مسجدیں بنانے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ (یہ حدیث بیان کرنے کے بعد) عبداللہ ابن عباس نے کہا کہ تم لوگ ضرور مسجدوں کو مزین کروگے جس طرح یہود اور نصاریٰ نے اپنی عبادت گاہوں کو مزین کیا۔ ایک اور روایت میں ایک صحابی کہتے ہیں کہ ہم کو بلند وبالا مسجدیں بنانے سے منع کیا گیا ہے۔ (نہیںنا عن تشئيد المساجد)
یہ پیشین گوئی موجودہ زمانہ میں ایک واقعہ بن چکی ہے۔ اور ہر ملک میں اس کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔ جہاں بھی کچھ مسلمان آباد ہیں وہاں عالی شان مسجدیں بنائی جارہی ہیں۔ کہیں قصر نما، کہیں قلعہ نما، اور کہیں تاج محل نما۔ شاندار مساجد تعمیر کرنے کا یہ کام امریکہ اور یورپ میں مزید اضافہ کے ساتھ ہورہا ہے۔ کیوں کہ اس سلسلہ میں وہاں زیادہ بہتر ٹیکنیکی سہولتیں حاصل ہیں۔ یہاں یہ سوال ہے کہ عالیشان مسجدیں بنانے کو اسلام میں کیوں ناپسند کیا گیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسجدوں کی عالیشان تعمیرات امت کے روحانی زوال کی علامت ہیں۔ کیوں کہ جب روح (اسپرٹ) ختم ہوتی ہے تو اس کی تلافی کے لیے مظاہر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
عالیشان مسجدوں کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ نمود و نمائش والی دینداری کی علامت ہیں۔ شاندار عمارتوں میں نمود و نمائش کے جذبہ کو بے حد تسکین ملتی ہے۔ وہ شکست خوردہ نفسیات کے لئے عظمت و فخر کی تسکین کا سامان ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی عام نفسیات یہ ہے کہ انہوں نے پولیٹکل گلوری کو کھودیا ہے۔ ایسی حالت میں درودیوار کی عظمت انہیں یہ فرضی تسکین دیتی ہے کہ اب بھی انہوں نے زمین پر اپنی عظمت کا نشان قائم کر رکھا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues