Al-Risala · December 2003 · page 64

اختلاف کو حل کرنے کی تدبیر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۶۴

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی تدبیر کا عملی نمونہ ہے۔ مثال کے طور پر آپ نے قدیم مکہ میں ۶۱۰ میں دعوتِ توحید کا مشن شروع کیا۔ اس وقت توحید کے نقطہ نظر سے مکہ میں سب سے زیادہ سنگین مسئلہ یہ تھا کہ توحید کے گھر (کعبہ) میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ مگر اس وقت قرآن میں اس مفہوم کی کوئی آیت نہیں اتری: طهّر الكعبة من الأصنام (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو) بلکہ اس کے بجائے قرآن میں یہ آیت اتری کہ : و ثيابك فطهر (اپنے اخلاق کو درست کرو) اس قرآنی اُصول پر عمل کرتے ہوئے پیغمبر اسلام نے یہ کیا کہ آپ نے مکہ کے تیرہ سالہ قیام کے زمانہ میں کبھی بتوں کو توڑنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ لوگوں کو توحید کا پیغام دینے کی پرامن جدوجہد شروع کردی۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں اس قسم کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ انہی میں سے ایک نمایاں واقعہ صلح حدیبیہ ۶۲۸ء کا ہے۔ یہ صلح گویا ڈیفرنس مینجمنٹ(difference management) کی ایک کامیاب مثال تھی جو انسانی تاریخ میں غالباً پہلی بار نہایت کامیابی کے ساتھ قائم کی گئی۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سخت انتباہ دیا تھا کہ اختلاف خواہ کتنا ہی بڑا ہو وہ ہر حال میں ڈیفرنس مینجمنٹ کے اصول پر اس کو حل کرے۔ کسی بھی حال میں وہ ایسا نہ کرے کہ اتحاد کے نام پر اختلاف کو مٹانے کی کوشش کرے ۔ حدیث کے مجموعوں میں کتاب الفتن کے تحت کثرت سے اس قسم کی روایتیں آئی ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ میرے بعد امراء اور حکام کے اندر بگاڑ آئے گا مگر تم ہرگز ان سے ٹکراؤ نہ کرنا۔ تم ظلم کے باوجود ان کا حق ادا کرنا اور اپنے حق کے لیے اللہ سے دعا کرنا (ادوا اليهم حقهم واسئلوا الله حقكم)

اس معاملہ میں ایک حدیث وہ ہے جوابوداؤد، التر مذی ، ابن ماجہ اور مسند احمد میں آئی ہے۔ یہ ایک لمبی روایت ہے ، اس کا آخری حصہ یہ ہے:

و إني لا أخاف على أمتي إلا الأئمة المضلين فإذا وضع السيف في امتى لم يرفع عنهم إلى يوم القيامة (مسند احمد ۴/ ۱۲۳) یعنی مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues

Printed page