Al-Risala · December 2003 · page 66

اختلاف کو حل کرنے کی تدبیر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۶۶

جس کو ہم نے آرٹ آف ڈیفرنس مینجمنٹ کا نام دیا ہے۔ اس اُصول کا تعلق اسلام کے تمام پہلوؤں سے ہے، کوئی بھی پہلو اس سے خالی نہیں۔

مثال کے طور پر فقہی اختلافات جو ہزار سال سے اب تک ٹکراؤ کا سبب بنے ہوئے ہیں ان کے معاملہ میں ڈیفرنس مینجمنٹ کا سادہ اُصول یہ ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ یہ اختلافات توسع پر مبنی ہیں، نہ کہ تعدد پر۔ ان میں سے جس طریقہ کی بھی پیروی کی جائے وہ درست ہوگا (بايهم اقتديتم اہتدیتم)

اسی طرح علی اور معاویہ کا معاملہ یا یہ سوال کہ چاروں خلفاء کے درمیان تفضیل کی بحث۔ اس قسم کے معاملات میں ڈیفرنس مینجمنٹ کے اُصول کا انطباق (application) یہ ہے کہ اس کو خدا کے حوالہ کر دیا جائے اور ہر فرقہ اپنی آج کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں مشغول ہو جائے۔ موجودہ زمانہ میں اکثر مسلم ملکوں میں سیکولر حکمرا نوں اور اسلام پسند جماعتوں کے درمیان تباہ کن ٹکراؤ جاری ہے۔ اس معاملہ میں ڈیفرنس مینجمنٹ کا انطباق یہ ہے کہ اسلام پسند جماعتیں حکومت کے دائرہ میں براہ راست مداخلت کا طریقہ چھوڑ دیں۔ وہ غیر حکومتی دائرہ، مثلاً تعلیم اور اصلاح اور دعوت کے شعبوں میں، اپنی کوششیں صرف کریں۔

موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان لیڈر یا مسلم گروہ مختلف ملکوں میں کسی نہ کسی قومی یا ملی مقصد کے حوالہ سے غیر مسلم حکومتوں سے متشددانہ ٹکراؤ کا سلسلہ جاری کئے ہوئے ہیں۔ مثلاً فلسطین اور کشمیر اور چیچنیا اور فلپائن ، وغیرہ میں ۔ ان مقامات پر ڈیفرنس مینجمنٹ کے اُصول کا انطباق یہ ہے کہ ہر قسم کے تشدد کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے اور صرف مسلمہ پر امن طریق کار کی پابندی کرتے ہوئے اپنی تحریک چلائی جائے۔

قرآن کی آیت: الصلح خیر (النساء ۱۲۸) بتاتی ہے کہ ڈیفرنس مینجمنٹ کا مذکورہ طریقہ مطلق طور پر خیر کا سبب ہے۔ وہ ہر حال میں قابل عمل ہے۔ یہ طریقہ صرف اس وقت نا قابل عمل بن جاتا ہے جب کہ مسلمان تشدد کا آغاز کر کے فضا کو بگاڑ دیں۔ تشدد کا آغاز لازمی طور پر جوابی تشدد پیدا

‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues

Printed page