دعوت عام کی ذمہ داری
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۶۸
دعوت عام کی ذمہ داری
بیان کیا جاتا ہے کہ پچھلے انبیاء مقامی آبادیوں کے لیے آئے۔ وہ جس قوم میں پیدا ہوئے وہی قوم اُن کی دعوت کا میدان ہوتی تھی۔ مگر پیغمبر آخر الزماں ﷺ کے بعد کوئی اور پیغمبر آنے والا تھا اس لیے آپ ساری دنیا کے لیے داعی اور منذر بنا کر بھیجے گیے (الفرقان ۱)۔ اسی لیے پیغمبر اسلام کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وما ارسلنٰک الا رحمة للعالمين (الانبیاء ۱۰۷) یعنی ہم نے تم کو تمام دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
یہ بات اہل اسلام کے لیے فخر یا فضیلت کی بات نہیں ہے بلکہ وہ ایک سنگین ذمہ داری کی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے پیغمبروں کی امتوں کی دعوتی ذمہ داری اگر مقامی دائرہ تک محدود رہتی تھی تو امت محمدی کی ذمہ داری سارے عالم تک پھیلی ہوئی ہے۔ اُمت محمدی کا اُمّت محمدی ہونا صرف اُس وقت متحقق ہوسکتا ہے جب کہ وہ تمام دنیا کی قوموں کے اوپر اپنی دعوتی ذمہ داری کو ادا کرے۔ اس دعوتی عمل کے بغیر اُس کا اُمت محمدی ہونا ہی مشتبہ ہے (المائدہ ۶۷)
مزید یہ کہ اس دعوتی ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اُمّت کے لوگ تمام دنیا میں مسلم وار تحریکیں چلائیں بلکہ اُنہیں لازمی طور پر غیر مسلم وار تحریکیں چلانا ہے۔ مسلم وار تحریک یا ملت وار تحریک امت کا داخلی مسئلہ ہے جب کہ غیر مسلم وار تحریک ، خارجی معنوں میں اُمّت کی لازمی ذمہ داری ہے۔ علمائے اسلام کا اس امر پر اتفاق ہے کہ دعوت کے بغیر جہاد نہیں۔ ابن رشد نے الفصل الرابع فی شرط الحرب کے تحت لکھا ہے: فاما شرط الحرب فهو بلوغ الدعوة باتفاق، اعنى انه لا يجوز حرابتهم حتى يكونوا قد بلغتھم الدعوة، وذلك شئ مجتمع عليه من المسلمين لقوله تعالى: وما كنا معذبين حتى نبعث رسولاً (بداية المجتهد ۱/ ۳۸۶) یعنی جنگ کی شرط متفقہ طور پر یہ ہے کہ ان لوگوں تک دعوت پہنچ چکی ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے اس
‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues