Al-Risala · December 2003 · page 79

صا مسل

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۷۹

نبوت کے بعد کے لوگوں کو ایھا الانسان کے لفظ سے خطاب کیا جائے گا، نہ کہ ایھا الکافرون کے لفظ سے۔ اب یہی انداز خطاب ہمیشہ جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ کافر کا مفہوم عربی زبان میں کفر کے معنی انکار کے ہیں اور کافر کا مطلب ہے، انکار کرنے والا۔ اسلام کے مطابق، کافر ایک کردار ہے، کافرکسی قوم کا اجتماعی لقب نہیں:

Kafir is an individual character rather than a group title of a certain race or community. کافر وہ ہے جو منکر ہو (One who refuses to accept)۔ قرآن کے اُردو ترجموں میں سب سے زیادہ صحیح ترجمہ شاہ عبد القادر دہلوی کا مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے ترجمہ قرآن میں کافر کا ترجمہ منکر کے لفظ سے کیا ہے۔ یہی اس لفظ کا صحیح ترجمہ ہے۔ قرآن کے انگریزی مترجمین اکثر کافر کا ترجمہ اُن بلیور (unbeliever) کے لفظ سے کرتے ہیں۔ یہ ترجمہ صحیح نہیں۔ اَن بلیور کا مطلب غیر مومن یا غیر معتقد ہوتا ہے۔ جب کہ کافر کا مطلب صرف غیر معتقد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو اتمام حجت کے باوجود ماننے سے انکار کرے۔

دور اول میں جب قرآن کی ابتدائی آیتیں اتریں تو ان میں پیغمبر کے مخاطبین کو کافر نہیں کہا گیا بلکہ ان کے لیے انسان جیسے الفاظ استعمال ہوئے۔ مثلاً قرآن میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا کہ: یا ایھا الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك ....... والله يعصمك من الناس ۔ اس آیت میں دیکھئے ۔ یہاں يعصمك من الناس (خدا تمہیں لوگوں سے محفوظ رکھے گا) کے الفاظ آئے ہیں۔ ایسا نہیں ہوا کہ یہاں يعصمك من الكفار کا لفظ استعمال کیا جائے۔ قرآن میں کثرت سے اس طرح کی آیتیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ ہر گروہ کے لیے اصلاً انسان جیسا عمومی لفظ استعمال کیا جائے گا۔ کافر کا لفظ صرف ان افراد تک مخصوص رہے گا جن کے لیے خدا نے خود کافر کا لفظ استعمال کیا ہو۔ کافر کا لفظ ایک خدائی اعلان ہے، وہ انسان کا دیا ہوا خطاب نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues

Printed page