کریڈٹ کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۳، صفحہ ۸۱
ترک صلاۃ کی بنا پر کافر ہو چکے ہیں تو اُس کا ایسا کرنا بالکل غلط ہو گا۔ ٹھیک اِسی طرح کوئی داعی یا مصلح قرآن کی آیتوں کو لے کر یہ مسئلہ بیان کر سکتا ہے کہ وہ کون سے اعمال ہیں جن کا ارتکاب کرنے سے کوئی شخص اللہ کی نظر میں کافر ہو جاتا ہے۔ لیکن اُس کا ایسا کرنا اپنی حد سے تجاوز ہو گا کہ وہ غیر مسلم افراد یا گروہوں کے نام لے کر یہ اعلان کرے کہ فلاں فلاں غیر مسلم لوگ کافر ہیں۔
اس معاملہ میں فعل اور فاعل کے درمیان فرق کرنا لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہ حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے کہ وہ مشخص طور پر فاعل کا اعلان کرے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان صرف ایک بار قدیم منکرینِ قریش کے بارہ میں کیا ہے جن کے اوپر پیغمبر نے براہ راست اتمام حجت کیا تھا۔ بقیہ انسانوں کے بارہ میں وہ آخرت میں اعلان فرمائے گا۔ ہمارا کام صرف دعوت دینا ہے، نہ کہ لوگوں کے کافر ہونے کا اعلان کرنا۔
کریڈٹ کا مسئلہ
کافر یا منکر کا لفظ بیک وقت دو کردار سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک وہ جس نے کوئی بات پیش کی ہو ۔ دوسرا وہ جس نے اس پیش کی ہوئی بات کا انکار کیا ہو۔ ان میں سے ایک کردار کو داعی کہہ سکتے ہیں دوسرے کردار کو مدعو کہہ سکتے ہیں۔
کافر ایک کردار ہے، کافر کسی گروہ کا قومی لقب نہیں۔ کسی گروہ کا کافر قرار پانا ایک بے حد غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس کا مطلب ایک کو انکار کی بنا پر ڈس کریڈٹ (discredit) کرنا اور دوسرے کو اس کے دعوتی عمل کی بنا پر کریڈٹ دینا ہے۔ کریڈٹ اور ڈس کریڈٹ کا یہ معاملہ فتویٰ یا بیان کے ذریعہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک نہایت سنجیدہ دعوتی محنت کا طالب ہے۔
اس دعوتی محنت کا معیاری نمونہ پیغمبرِ اسلام کا تیرہ سالہ مکی دور ہے۔ پیغمبرِ اسلام نے جب مکہ کے لوگوں میں دعوتی کام کا آغاز کیا تو آپ کے خطاب کے الفاظ یہ تھے: یا ایہا الانسان۔ اس طرح تیرہ سال لوگوں کو بحیثیت انسان خطاب کرنے کے بعد جب لوگ جان بوجھ کر انکار پر قائم رہے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2003 All issues