مدح ، تنقید
الرسالہ، فروری ۲۰۰۳
مدح ، تنقید
احادیث میں کثرت سے یہ تلقین کی گئی ہے کہ تم کسی کی مدح نہ کرو۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اذا رأیتم المداحين فاحثوا في وجوههم التراب (صحیح مسلم، کتاب الزہد) یعنی جب تم مدح کرنے والوں کو دیکھو تو اُن کے منہ پر مٹی ڈال دو۔ اسی طرح ایک روایت میں آیا ہے: سمع النبی صلی اللہ علیہ وسلم یثنی علی رجل و یطریہ فی مدحہ، فقال: أہلکتم او قطعتم ظهر الرجل (صحیح بخاری، کتاب الشہادات) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سُنا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی تعریف کر رہا ہے اور اُس کی تعریف میں وہ مبالغہ کر رہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے اس شخص کو ہلاک کر دیا یا یہ فرمایا کہ تم نے اُس کی کمر توڑ دی۔ اسی طرح خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارہ میں ایک روایت میں آیا ہے کہ اُنہوں نے کہا: المدح الذبح (الأدب المفرد، باب ما جاء فی التمادح)۔ یعنی مدح کرنا آدمی کو ذبح کرنا ہے۔ اسی طرح ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت عمر نے ایک شخص کو دوسرے شخص کی تعریف کرتے ہوئے سُنا تو اُنہوں نے کہا: عقرت الرجل، عقرک اللہ (الأدب المفرد، باب ما جاء فى التمادح) یعنی تم نے اُس شخص کو ذبح کر دیا، اللہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کرے۔ حدیث اور آثار کی کتابوں میں اس طرح کی بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ مدح کا طریقہ دینی مزاج کے خلاف ہے۔ بعض اوقات اعتراف واقعہ یا اور کسی مصلحت سے کسی کی تعریف کی جاسکتی ہے۔ مگر عمومی طور پر اسلام میں اُس چیز کو سخت ناپسند کیا گیا ہے جس کو مدح خوانی یا قصیدہ گوئی کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی تعریف مادح کے لیے مصلحت پرستی ہے اور ممدوح کے لیے اُس کو عُجب کی غذا دینا ہے۔ اس لیے یہ فعل مادح اور ممدوح دونوں کے لیے ہلاکت خیز ہے۔ تا ہم یہ بات قابل غور ہے کہ احادیث میں تعریف کی مذمت تو کی گئی ہے مگر تنقید کی مذمت نہیں کی گئی۔ غالباً کوئی بھی صحیح حدیث ایسی نہیں جس میں تنقید کے فعل کو اُس طرح مطلق طور پر مذموم
‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues