Al-Risala · March 2004 · page 4

Stress Management اسٹریس مینجمنٹ

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۴

"کتنے ہی چھوٹے گروہ اللہ کے حکم سے بڑے گروہ پر غالب آئے ہیں۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے" (البقرہ ۲۴۹)

قرآن کی اس آیت میں چھوٹے گروہ اور بڑے گروہ کے درمیان جس ہونے والے واقعہ کو بتایا گیا ہے وہ کوئی پراسرار بات نہیں، وہ مکمل طور پر ایک فطری واقعہ ہے جو معلوم قانون کے تحت پیش آتا ہے۔ مزید یہ کہ اُس کا تعلق ہر گروہ سے ہے، خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی۔ خواہ وہ ایک ملک کا رہنے والا ہو یا کسی دوسرے ملک کا رہنے والا۔ خواہ وہ ایک زمانہ میں رہنے والا ہو یا کسی دوسرے زمانہ میں رہنے والا۔ اصل یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر اتھاہ صلاحیت موجود ہے۔ مگر ابتدائی طور پر یہ صلاحیت سوئی ہوئی ہوتی ہے۔ جو چیز اس صلاحیت کو جگاتی ہے وہ صرف ایک ہے، اور وہ چیلنج ہے، اسی چیلنج کی حالت کو قرآن میں عداوت (الاعراف ۲۴) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چیلنج (یا عداوت) کے حالات آدمی کے اندر سوئی ہوئی صلاحیتوں کو جگاتے ہیں۔ اور جن لوگوں کو چیلنج والے حالات پیش نہ آئیں اُن کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں بیدار نہیں ہوتیں۔ وہ ایک کمتر انسان کی مانند جیتے ہیں اور کمتر انسان کی مانند مر جاتے ہیں۔

چھوٹے گروہ اور بڑے گروہ کے درمیان فرق اسی فطری قانون کی بنا پر پیش آتا ہے۔ کسی سماج میں جب ایک گروہ کم تعداد میں ہو اور دوسرا گروہ زیادہ تعداد میں تو اس فرق کی بنا پر دونوں کو الگ الگ حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ ایک کو صبر کی مشقت سے گزرنا پڑتا ہے اور دوسرا صبر کی مشقت سے بچار ہتا ہے۔ چھوٹا گروہ مسلسل طور پر بڑے گروہ کے مقابلہ میں چیلنج کی حالت میں رہتا ہے۔ اس دباؤ کی بنا پر چھوٹے گروہ کے لوگوں کی صلاحیتیں مسلسل بیدار ہوتی رہتی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا گروہ اپنی برتر پوزیشن کی بنا پر چیلنج یا دباؤ کی صورت حال سے بچا ہوا ہوتا ہے۔ اس لیے اُس کی صلاحیتیں زیادہ بیدار نہیں ہوتیں۔

اس فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ چھوٹے یا کمزور گروہ کی تخلیقیت (creativity) بڑھتی رہتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا گروہ مسلسل طور پر غیر تخلیقیت (uncreativity) کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page