Al-Risala · March 2004 · page 10

حالات یکساں نہیں رہتے

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۱۰

مقابلہ میں اپنے مخالفین پر فتح حاصل ہوئی تھی۔ اس کے بعد اُحد کے مقابلہ میں اُنہیں اپنے مخالفین سے شکست ہوگئی۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے:

’’اگر تم کو کوئی زخم پہنچا ہے تو دشمن کو بھی ویسا ہی زخم پہنچ چکا ہے۔ اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ ‘‘ (آل عمران ۱۴۰)

قرآن کی اس آیت میں قوموں کے بارہ میں ایک تاریخی قانون کو بتایا گیا ہے۔ اور وہ یہ کہ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی قوم ہمیشہ غالب رہے یا ہمیشہ فتح حاصل کرتی رہے۔ اس بنا پر حالات ہمیشہ کسی ایک قوم کے موافق نہیں ہوتے۔ حالات کا فیصلہ کبھی ایک گروہ کے حق میں ہوتا ہے اور کبھی دوسرے گروہ کے حق میں۔ ایسی حالت میں لوگوں کو چاہئے کہ وہ تاریخ کے فیصلہ کو قبول کریں۔ وہ شکایت اور احتجاج کے بجائے از سر نو اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔

ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کو مسابقت کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان مقابلہ جاری رہتا ہے۔ اس مقابلہ میں کبھی ایک گروہ کو جیت حاصل ہوتی ہے اور کبھی دوسرے گروہ کو۔ مقابلہ آرائی کا یہ ماحول قوموں کو مسلسل طور پر بیدار رکھتا ہے۔ اس کی وجہ سے ترقی کا عمل برابر جاری رہتا ہے۔

ایسی حالت میں حقیقت پسندی یہ ہے کہ ہارنے والے اور جیتنے والے دونوں اپنی ہار اور جیت کو وقتی سمجھیں ۔ نہ ہارنے والا پست ہمت ہو اور نہ جیتنے والا فخر و ناز کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے ۔ اس معاملہ میں معتدل رویہ پر قائم رہنا گویا قدرت کے فیصلہ کو تسلیم کرنا ہے۔ اس کے برعکس معتدل رویہ سے ہٹنا گویا قدرت کے فیصلہ پر راضی نہ ہونا ہے۔ مگر جو لوگ اس معاملہ میں قدرت کے فیصلہ پر راضی نہ ہوں وہ خود اپناہی نقصان کریں گے، نہ کہ کسی اور کا۔

یہ معاملہ پوری طرح فطرت کے قانون کا معاملہ ہے۔ وہ کسی کے لیے اور کسی کی وجہ سے بدلنے والا نہیں۔ ایسی حالت میں کوئی فریق اگر اس کو قبول نہ کرے تو اُس کا یہ عدم قبول ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ مجھے پھول کے ساتھ کانٹا مطلوب نہیں یا کوئی شخص اس بات پر احتجاجی مہم چلائے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page