Al-Risala · March 2004 · page 20

اعراض کا طریقہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۲۰

تناسب کو بگاڑ دے تو گویا وہ دوہرا جرم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ خدا کے غضب کا شکار ہو کر رہ جائیں گے، وہ کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔

اعراض کا طریقہ

قرآن کی سورہ نمبر ۷ میں چند اخلاقی نصیحتیں کی گئی ہیں۔ اُن میں سے ایک نصیحت یہ ہے کہ باہمی معاملات میں اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ قرآن کی مذکورہ آیت کا ترجمہ یہ ہے: درگزر کرو، نیکی کا حکم دو اور نادانوں سے اعراض کرو (الاعراف (۱۹۹)

اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کے درمیان بحث اور تکرار شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے موقع پر درست طریقہ کیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ اگر فریق ثانی سنجیدہ ہو، وہ مسئلہ کو حقیقی طور پر سمجھنا چاہتا ہو تو ایسی صورت میں دلیل کے ذریعہ اُس کے سامنے اپنا موقف رکھنا چاہیے۔ اور اگر وہ سنجیدہ نہ ہو تو ایسی حالت میں دلیل اور منطق اُس کو متاثر نہ کر سکے گی۔ وہ ہر دلیل کے جواب میں کچھ خود ساختہ الفاظ بول دے گا اور پھر یہ سمجھے گا کہ اُس نے پیش کردہ دلیل کو رد کر دیا ہے۔

اس دوسری صورت میں درست طریقہ یہ ہے کہ اعراض (avoidance) کے اصول پر عمل کیا جائے۔ اعراض کا مقصد دراصل یہ ہے کہ آدمی کو اُس کے ضمیر کے حوالہ کر دیا جائے ۔ عین ممکن ہے کہ جو مقصد دلیل کے ذریعہ پورا نہیں ہوا وہ ضمیر کی خاموش آواز کے ذریعہ پورا ہو جائے۔ عملی نزاع کو ختم کرنے کے لیے بھی سب سے زیادہ موثر ذریعہ اعراض ہے۔ عملی نزاع کے وقت اگر اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے تو نزاع اپنے پہلے ہی مرحلہ میں ختم ہو جائے گی۔ جب کہ اعراض نہ کرنے کا نقصان یہ ہے کہ نزاع بڑھتی رہے، یہاں تک کہ چھوٹی برائی (lesser evil) کی جگہ بڑی برائی (greater evil) کا سامنا کرناپڑے۔

اعراض کوئی سادہ چیز نہیں، وہ ایک اعلیٰ اخلاقی روش ہے۔ وہ ایک اعلیٰ انسانی طریقہ ہے۔ کوئی شخص جب اشتعال کی صورت پیش آنے پر بھڑک اُٹھے تو وہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک پست انسان

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page