جوابات
الرسالہ، جون ۲۰۰۴
ہوسکتا۔ موجودہ زمانہ کے نام نہاد مجاہدین مختلف مقامات پر جو خودکش بمباری (suicide bombing) کر رہے ہیں وہ بلاشبہ حرام ہے۔ خودکشی کسی بھی عذر کی بنا پر اسلام میں جائز نہیں۔ مزید یہ کہ یہ خودکش بمباری عام طور پر غیر مقاتلین (non-combatants) کے اوپر کی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ سافٹ ٹارگٹ (soft target) سمجھے جاتے ہیں۔ یہ دوسرا پہلو اس حرمت کو اور بھی زیادہ سنگین بنا دیتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں اسلام کی جو بدنامی ہو رہی ہے وہ تمام نقصانات میں سب سے زیادہ بڑا نقصان ہے۔
۵۔ پانچویں سوال میں جن مقاصد کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کسی بھی مقصد کے لیے غیر حکومتی تنظیموں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مفروضہ دشمن کے خلاف مسلح جہاد چھیڑ دیں۔ ان مقاصد کے نام پر موجودہ زمانہ میں جو مسلح جہاد کیا گیا وہ ایک غیر اسلامی فعل تھا یہی وجہ ہے کہ وہ خدا کی نصرت حاصل نہ کر سکا۔ اور اس بنا پر وہ اپنے مقصد کے حصول میں مکمل طور پر نا کام رہا۔ ۶۔ چھٹے سوال میں جن مقاصد کا ذکر ہے ان کے حصول کی تدبیر صرف ایک ہے اور وہ پر امن جد و جہد ہے۔ تشدد پر مبنی جد و جہد کے ذریعہ ان مقاصد کا حصول سرے سے ممکن ہی نہیں، جیسا کہ عملاً پیش آیا۔
ان مقاصد کے لیے موجودہ زمانہ میں جو کوششیں کی گئی ہیں وہ زیادہ تر جہاد یا ٹکراؤ کے اصول پر مبنی ہیں۔ مگر موجودہ دنیا میں جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ ہمیشہ دو طرفہ ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے جذبات کے ساتھ خارجی حالات کا بے لاگ جائزہ لیں۔ خارجی حالات کی رعایت کرنے کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ہماری کوشش کامیاب ہو سکے۔ موجودہ قسم کی جہادی سرگرمیوں میں یہ خارجی رعایت مفقود ہے۔ جب تک یہ صورت حال باقی رہے گی، ہماری کوششیں ناکامی کے سوا کسی اور انجام تک نہیں پہنچ سکتیں۔
جہاد دراصل ایک پر امن جد و جہد ہے جو گہری منصوبہ بندی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ جہاد کی عملی طور پر دو قسمیں ہو سکتی ہیں۔ ایک ہے، کھوئے ہوئے جہاد اور دوسرا ہے، ملے ہوئے پر جہاد۔ میرے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues