۱۶۔ لڑکیوں کی تربیت
الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۱۵
عورت ماں کی حیثیت سے اپنی اولاد کی سب سے بڑی محسن ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے انسان کے اوپر ماں کا درجہ سب سے زیادہ ہے۔ اس حدیث میں دراصل اس حقیقت پر زور دیا گیا ہے کہ محسن کے احسان کا اعتراف سب سے بڑی نیکی (virtue) ہے۔ اس نیکی کی اسپرٹ جس کے اندر ہو اس کے اندر بیک وقت دو صفتیں موجود ہوں گی_ انسان کی نسبت سے اُس کے حسن سلوک کا گہرا اعتراف اور خدا کی نسبت سے اُس کے احسان کا گہرا شکر۔ یہی صفت کسی انسان کے لیے جنت میں داخلہ کا سب سے بڑا استحقاق ہے۔
۱۶۔ لڑکیوں کی تربیت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے تین لڑکیوں کی پرورش کی۔ پھر ان کو ادب سکھایا اور اُن کی شادی کی اور اُن کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے (من عال ثلاث بنات فادبهن و زوجھن و احسن الیهن فله الجنة)
سنن ابی داؤد، کتاب الادب
عام مزاج یہ ہے کہ اگر کسی باپ کے یہاں کئی لڑکیاں ہوں اور کوئی لڑکا نہ ہو تو وہ لڑکیوں کو بے قدر کر دیتا ہے۔ اس حدیث میں اسی ذہن کی تردید کی گئی ہے۔ کسی باپ کے یہاں لڑکا پیدا ہو یا لڑکی، دونوں حالتوں میں باپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دے۔ وہ اُن کو ایسی تربیت دے جو اُن کے لیے زندگی گذارنے میں مددگار بنے۔
باپ کا رجحان اکثر اپنی اولاد کے لیے یہ ہوتا ہے کہ وہ اُن کے لیے زندگی کی راحتیں فراہم کرے ۔ وہ کما کر اُنہیں زیادہ سے زیادہ مال دے سکے۔ مگر یہ نظریہ درست نہیں۔ اولاد کے لیے باپ کا سب سے بہتر عطیہ مال نہیں ہے بلکہ تعلیم ہے۔ باپ کا کمایا ہوا مال اولاد کے لیے بلا محنت کی کمائی (easy money) کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسا مال اکثر آدمی کو خراب کر دیتا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی اپنی اولاد کو تعلیم دے۔ اور اس طرح انہیں اس قابل بنائے کہ وہ خود محنت کر کے زیادہ بہتر طور پر اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues