۲۰ - عورتوں سے مشورہ
الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۱۸
لڑکی اپنے خاندان کی ایک صحت مند ممبر بن کر خاندان کی ترقی کا ذریعہ ہے۔
اس قسم کا کام ابتدائی طور پر اگر چہ اخروی انعام کے جذبہ کے تحت شروع کیا جاتا ہے مگر اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ خود دنیا کی تعمیر کا بہترین ذریعہ بن جاتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے خاندان کے لیے مفید ہوتا ہے، دین کے اعتبار سے بھی اور دنیا کے اعتبار سے بھی۔
۲۰ - عورتوں سے مشورہ
حسن بصری تابعی نے ستر سے زیادہ صحابہ کو دیکھا تھا اور اُن سے سُنا تھا۔ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں بتاتے ہیں کہ آپ کا طریقہ تھا کہ آپ کثرت سے مشورہ کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ عورت سے بھی مشورہ کرتے تھے، اور عورت کبھی ایسی رائے دیتی تھی جس کو آپ قبول کر لیتے تھے (كان النبي ﷺ يستشير حتى المرأة فتشير عليه بالتي فياخذ به)۔
عيون الاخبار لابن قتيبة، جزء ا، صفحه ۲۷
پیغمبر اسلام ﷺ کا یہ اُسوۃ محدود معنوں میں نہیں ہے۔ وہ وسیع معنوں میں ہے۔ اُس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ کسی کو مشیر کا درجہ دینا اس کو ایک با عزت درجہ دینا ہے۔ ایسی حالت میں عورت کو مشیر بنانے کا مطلب یہ ہے کہ عورت کی تعلیم و تربیت اس نہج پر کی جائے کہ وہ معاملات میں مشورہ دینے کے قابل ہو سکے۔ مشورہ لینے میں مشورہ دینے کے قابل بنانا اپنے آپ شامل ہے۔ سماجی اعتبار سے دیکھا جائے تو کوئی عورت (یا مرد) اپنے آپ مشیر نہیں بن سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اُس کی تعلیم و تربیت اُس کے مطابق ہو۔
اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو پیغمبر اسلام کا مذکورہ اُسوہ اپنے اندر ایک مکمل تصور حیات لیے ہوئے ہے۔ اِس کے اندر سماج کا ایک ایسا نقشہ نظر آتا ہے جس میں تعلیم و تربیت کے اعتبار سے ایسی سرگرمیاں جاری ہوں جو عورتوں کو اس قابل بنائیں کہ وہ سماج کا ایک صحت مند حصہ بن سکیں۔ وہ اپنی صلاحیت کے اعتبار سے اس قابل ہوں کہ معاملات میں صحیح مشورہ دیں۔ وہ کسی معاملہ میں بحث و تبادلہ (discussion) کے وقت اپنا مفید کردار ادا کر سکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues