جوابات
الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۲۴
ہوتی ہے یا اسلامی مملکتوں کے سربراہوں پر۔ اگر جہاد کے نام پر شروع کی گئی سرگرمیاں صحیح نہ ہوں تو مملکتوں کے سربراہوں پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
۱۱۔ سماجی سطح پر ہندستان میں مدارسِ اسلامیہ کا فکری رجحان کیا رہا ہے۔
۱۲۔ اب تک ہندستان کے مدارس میں دہشت گردی کی فکری یا عملی تعلیمات کا کوئی ثبوت نہ ملنے کے باوجود ملکی سطح پر کچھ حلقے سے مدارسِ اسلامیہ پر مسلسل دہشت گردی کے فروغ کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، آخر اس کے اسباب وعوامل کیا ہو سکتے ہیں اور اس ڈھٹائی کے پیچھے ان کے کیا مقاصد پنہاں ہیں۔
۱۳۔ مدارسِ اسلامیہ کو اپنے وقار کے تحفظ اور ان سازشوں کے نتائج سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہئے۔
جوابات
۱۔ قرآن اور حدیث میں جہاد کا لفظ اصلاً پر امن جدوجہد کے لیے آیا ہے۔ جہاں تک مسلح جنگ کا تعلق ہے، اس کے لیے قرآن اور حدیث میں قتال کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جہاد کا لفظ اگر کہیں جنگ کے معنی میں استعمال ہوا ہے تو وہ اس لفظ کا ایک تو وسیع مفہوم ہے، نہ کہ اس کا اصل مفہوم۔ ۲۔ غیر حکومتی تنظیموں کی طرف سے جہاد (بمعنیٰ قتال) کا عمل جو آج کل مختلف مسلم گروہوں کی طرف سے جاری ہے وہ بلاشبہہ غیر اسلامی ہے۔ یہ سب جہاد کے نام پر فساد کا عمل ہے۔ کیوں کہ جہاد (بمعنیٰ قتال) سرتاسر حکومت کی ذمہ داری ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کے لیے پر امن دعوت ہے نہ کہ مسلح جہاد۔
۳۔ عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانا کسی حال میں جائز نہیں، حتیٰ کہ کسی مسلم حکومت کے تحت ہونے والے جائز جہاد میں بھی نہیں۔ جائز جہاد میں بھی صرف مقاتل پر وار کیا جاسکتا ہے، غیر مقاتل پر وار کرنے کی گنجائش اسلام کے اصولِ جنگ میں نہیں ہے۔
۴۔ خودکشی یا خودکش حملہ کرنا یقینی طور پر حرام ہے۔ جہاد کا نام دینے سے کوئی حرام کبھی حلال نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues