Al-Risala · June 2004 · page

جوابات

الرسالہ، جون ۲۰۰۴

کے ذریعہ تعلیم و نصیحت، وغیرہ۔ سماجی اعتبار سے ایک مستقل کام سوشل سروس ہے۔ مگر مدارس میں غالباً سوشل سروس کا کوئی باقاعدہ تصور موجود نہیں۔

۱۲۔ یہ صحیح ہے کہ مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم و تربیت نہیں دی جاتی۔ اس اعتبار سے مدارس پر الزام لگانا غلط ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ صحیح ہے کہ مدارس کے نظام میں عین وہی ذہن بنتا ہے جس کو جہادی ذہن کہا جاتا ہے۔ مدارس کے لوگوں کو امت مسلمہ کے مسائل کے سلسلہ میں پر امن عمل کا کوئی شعور نہیں۔ وہ دور جدید کے اس امکان سے بے خبر ہیں کہ ہر میدان میں حصہ داری (sharing) کے اصول پر کام کیا جانا چاہیے۔ مدارس کے لوگ اب تک شعوری یا غیر شعوری طور پر یہی سمجھتے ہیں کہ غیر مسلم لوگ کافر ہیں۔ غیر مسلم ممالک دار الكفر یا دار الحرب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ دوسری قومیں مسلمانوں کے خلاف دشمنی اور سازش میں مشغول ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس کی طرف سے اب تک جہاد کے نام پر متشددانہ سرگرمیوں کی کھلی مذمت نہیں کی گئی اور نہ یہ اعلان کیا گیا کہ یہ سرگرمیاں جہاد نہیں بلکہ فساد ہیں۔ ایسی حالت میں مدارس کو اس معاملہ میں مکمل طور پر بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔

۱۳۔ میرے نزدیک سازش کا تصور محض ایک مفروضہ ہے۔ اسی طرح وقار کے تحفظ کا سوال بھی ایک فرضی سوال ہے۔ اس کا سادہ سا ثبوت یہ ہے کہ ۱۹۷۲ء کے بعد ہر مدرسہ نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ اگر مذکورہ مفروضہ درست ہوتا تو مدارس کی یہ ترقیاں ہرگز ممکن نہ ہوتیں۔ اس معاملہ میں مدارس کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ سازش کے فرضی وہم سے باہر آ جائیں اور معتدل ذہن کے تحت اپنا کام کریں۔

مدارس اسلامی تعلیم کا مرکز ہیں۔ اسلامی تعلیم اپنے آپ میں پرکشش ہے۔ وہ یہ طاقت رکھتی ہے کہ خود اپنے زور پر انسان کو اپنا گرویدہ بنا سکے۔ ایسی حالت میں موجودہ زمانہ میں مدارس کے بارے میں جو غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں وہ اصلا خود مدارس کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہیں۔ اس کمی کا ایک سبب یہ ہے کہ مدارس اسلامیہ کے لوگ اپنی روایات کے تحت بند ماحول میں رہتے ہیں۔ وہ خارجی دنیا سے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues

Printed page