Al-Risala · June 2004 · page 38

Relevance of Sufism in the Post-9/11 World

الرسالہ، جون ۲۰۰۴، صفحہ ۳۸

لیس عند الضرورة رخصة بل ذلك عزيمة واجبة و لو امتنع من الاكل كان عاصياً (البحر المحيط) و قال مسروق بَلَغَنِی أنه من اضطرّ الى الميتة فلم يأكل حتى مات دخل النار كأنه اشار الى أنه قاتل نفسه بتركه ما أباحَ اللّٰهُ له (البحر المحيط) هذا يقتضى أن أكل الميتة للمضطر عزيمة لا رخصة (تفسير ابن كثير)

اس شرعی مسئلہ کا انطباق اگر بابری مسجد کے مسئلہ پر کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ مسئلہ اس ضرورت شدیدہ کی حد تک پہنچ چکا ہے جہاں اب تبدیلی مقام صرف ایک جواز کا درجہ نہیں رکھتا بلکہ وہ وجوب کے درجہ کو پہنچ چکا ہے۔ ایسا نہ کرنا مسلمانوں کو مسلسل جان اور مال کے عظیم خطرہ میں مبتلا کرنا ہے۔ جب نقصان اس سنگین حالت تک پہنچ جائے تو اس وقت اس مسئلہ کا مذکورہ حل اختیار نہ کرنا شریعت سے انحراف ہوگا ، نہ کہ اس کو اختیار کرنا۔

اجودھیا کے مسئلہ کے معاملہ میں قانونی انصاف اور قانونی بے انصافی کی بحث نکالنا کوئی دانشمندی کی بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی معاملہ جب سنگین نزاکت کے اس مرحلہ تک پہنچ جائے جیسا کہ اجودھیا کا معاملہ پہنچ چکا ہے تو قانونی انصاف کا حصول عملاً ممکن نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں انتخاب (choice) قانونی بے انصافی اور جان و مال کی حفاظت کے درمیان بن جاتا ہے، نہ کہ قانونی انصاف اور قانونی بے انصافی کے درمیان۔ یہ معاملہ جس انتہائی شدید حالت تک پہنچادیا گیا ہے، اب مسلمانوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ایک قانونی بے انصافی کو گوارا کریں یا پوری قوم کی جان و مال کو انتہائی سنگین خطرہ میں ڈال دیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر شخص اپنے ذاتی معاملہ میں یہی کرتا ہے کہ اس طرح کے موقع پر وہ جان و مال کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے قانونی یا منطقی بے انصافی کو برداشت کرلیتا ہے۔ پھر اس عمومی مسلک کو اجودھیا کے معاملہ میں بھی کیوں نہ اختیار کر لیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو صلح حدیبیہ کی گئی وہ اس معاملہ میں ایک رہنما مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ معاہدہ فریق ثانی کی جن یک طرفہ شرطوں پر ہوا وہ واضح طور پر ایک ناانصافی کا

‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues

Printed page